نکاح

نومسلم لڑکی کا کسی غیر محرم کو ولی بناکر نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
94365
| تاریخ :
2026-04-20
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نومسلم لڑکی کا کسی غیر محرم کو ولی بناکر نکاح کرنے کا حکم

السلام علیکم!میرا نام لیلیٰ ہے اور میں کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک نو مسلم بہن ہوں۔ مجھے اپنے نکاح کے لیے اپنے والد کی ولایت ایک مقامی شیخ کو دینے کے سلسلے میں ایک فتوے کی ضرورت ہے۔ میں نے اسلام قبول کیا ہے لیکن میرے والد مسلمان ہیں،وہ میری زندگی میں شامل نہیں ہیں اور ذہنی طور پر ولی بننے کے اہل نہیں ہیں۔ میں اپنے والد سے رابطہ نہیں کر سکتی اور میرا کوئی ایسا مسلمان خاندان بھی نہیں ہے جو میرا ولی بن سکے۔ کچھ حوالے کے لیے (اگر ضرورت پڑی اور اگر یہ رابطے کا صحیح ذریعہ ہے تو میں مزید تفصیلات فراہم کر سکتی ہوں) میرے والد ذہنی طور پر غیر مستحکم ہیں اور میری پوری زندگی ایسے ہی رہے ہیں، جب وہ میرے بچپن میں ہمارے ساتھ تھے تو وہ اسلام پر عمل نہیں کرتے تھے، ان کے عقائد اسلام کے منافی ہیں، اور وہ متعدد وجوہات کی بنا پر مجموعی طور پر نااہل ہیں۔ ان وجوہات میں شامل ہے لیکن یہ یہیں تک محدود نہیں: اپنے بچوں کو جنات سے بات کرنے پر اکسانا، تشدد (بار بار جرم کرنے والے جس وجہ سے جیل بھی جا چکے ہیں)، پیچھا کرنا (اسٹاکنگ)، اور ان پر سخت حد تک کالا جادو کرنے کا شبہ ہے۔ میں اپریل کے آغاز سے ہی فتویٰ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہوں اور صرف یہی ایک چیز مجھے شادی کرنے سے روک رہی ہے۔ اگر یہ رابطے کا صحیح ذریعہ ہے تو براہِ مہربانی ہمیں بتائیں اور میں ضرورت کے مطابق مزید تفصیلات فراہم کر سکتی ہوں۔ اللہ آپ کو جزا دے اور آپ کو ثابت قدم رکھے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عند الاحناف عاقلہ بالغہ لڑکی کے نکاح کی صحت اور انعقاد کے لئے ولی کا ہونا شرط نہیں، البتہ اگر لڑکی اپنے سے کم درجہ کے مرد یا خاندان میں ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر نکاح کر لیتی ہے تو ولی کو بذریعہ عدالت اس نکاح کو فسخ اور کالعدم کرنے کا حق شرعاً حاصل ہوتا ہےلیکن اگر لڑکی کا کوئی ولی موجود نہ ہو یا موجود تو ہو لیکن اس میں سوءِ اختیار کا عیب پایا جاتا ہو، یعنی اس کے معاملات اور رویہ درست نہ ہونے کی وجہ سے اس میں ولی بننے کی اہلیت نہ ہو تو ایسی صورت میں عاقلہ بالغہ لڑکی کا اپنی مرضی سے کیا ہوا نکاح لازم اور پختہ منعقد ہو جاتا ہےیعنی اسے فسخ کرنے اور کالعدم کرنے کا کسی کو بھی حق نہیں رہتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کا اپنے والد کے متعلق بیان کردہ واقعات درست اور حقیقت پر مبنی ہوں تو اس کے لیے اپنے نکاح کی صحت کے لیے کسی کو ولی بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ خود بھی اپنا نکاح کروا سکتی ہے، البتہ اگر کسی دیندار شخص کو اپنا مربی اور مصلح سمجھ کر ان کی مشاورت سے نکاح کے لیے کسی لڑکے کا انتخاب کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی بدائع الصنائع : وأما ولاية الندب والاستحباب فهي: الولاية على الحرة البالغة العاقلة بكرا كانت أو ثيبا في قول أبي حنيفة وزفر وقول أبي يوسف الأول، وفي قول محمد وأبي يوسف الآخر الولاية عليها ولاية مشتركة الخ(کتاب النکاح،ج:2 ،ص:247، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار: (فنفذ نكاح حرة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا الخ(کتاب النکاح ،ج:3 ،ص:55/56 ،ط: سعید)
وفی البناية شرح الهداية: قال: كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره الخ(کتاب النکاح ،ج:9 ،ص:217 ،ط: دارالکتب العلمیۃ)
و فی العنایۃ: قوله (وإذا عدم الأولياء) يعني على الوجه المذكور (فالولاية إلى الإمام والحاكم لقوله «السلطان ولي من لا ولي له») أما الحاكم وهو القاضي فإنما يملك الإنكاح إذا كان ذلك في عهده ومنشوره، كذا۔اھ(باب الأولياء والأكفاء،ج:3،ص:285،ط:دار الفكر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94365کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات