السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں حنفی ہوں، میں نے ایک عورت کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا تھا، زنا نہیں ہوا، کیا اب اس کی بیٹی سے میرا نکاح جائز ہے؟ ہم دونوں نے توبہ کر لی ہے، براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ جس طرح جماع سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح کسی عورت کو شہوت کے ساتھ بغیر کسی حائل کے چھونے یا بوسہ لینے سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے مذکورہ عورت کو شہوت کے ساتھ بغیر کسی حائل کے چھوایابوسہ لیاہو، تو اس عورت کی بیٹی سائل پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوچکی ہے،اگرچہ سائل اورمذکورعورت اپنے اس فعل قبیح پرندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ کرچکے ہوں، اس کے باوجودسائل کے لیے مذکورعورت کی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں۔جس سے بہرصورت اجتناب لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ : فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها و إن علت و ابنتها و إن سفلت ، و كذا تحرم المزني بها على آباء الزاني و أجداده و إن علوا و أبنائه و إن سفلوا ، كذا في فتح القدير . (1/274)۔
وفی الدر المختار: (و) حرم بالمصاهرة (بنت زوجته الموطوءة وأم زوجته) وجداتها مطلقا بمجرد العقد الصحيح (وإن لم توطأ) الزوجة لما تقرر أن وطء الأمهات يحرم البنات ونكاح البنات يحرم الأمهات، ويدخل بنات الربيبة و الربيب. وفي الكشاف واللمس ونحوه كالدخول عند أبي حنيفة وأقره المصنف (وزوجة أصله وفرعه مطلقا) ولو بعيدا دخل بها أو لا. وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال۔اھ (3/30)۔
و فی الھندیۃ: ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة. الخ (1/275)۔