نکاح

لڑکے کا اپنی عمر سے بڑی عمر کی عورت سے کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
94473
| تاریخ :
2026-04-22
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکے کا اپنی عمر سے بڑی عمر کی عورت سے کئے ہوئے نکاح کا حکم

السلام علیکم : میرا بیٹا جس کی عمر 20 سال تھی دو سال پہلے ایک سکول میں ٹیچر کے عہدے پر ملاازمت کی اس دوران اس سکول میں موجود ایک چالیس (40)سالہ بیوہ نے اپنے زلف کا اسیر کیا یہ بیوہ چھ بچوں کی ماں ہے اور اس کے دوسرے بیٹے کی عمر میرے بیٹے کی عمر کے برابر ہے اور سرکاری ملازمت کرتا ہے جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی کا عمر تیرہ(13) سال ہے یہ اپنی سابقہ خاوند کی پیشن لیتی ہے اور خود بھی ٹیچر ہے اور چار (4) بیٹے بھی ملازمت کرتے ہیں کوئی مجبوری نہیں ہے سواء اپنی خواہشات پوری کرنے کی جبکہ میرا بیٹا بے روزگار ہے روزانہ مجھ سے 100یا200 روپے لیتا ہے اس چا لاک عورت نے میرے بیٹے کو ورغلایا کہ میں تمہارے ساتھ خفیہ نکاح کروں گی دو سال پہلے رمضان میں جب میں اور میری بیگم اعتکاف میں تھیں یہ دونوں نکاح کے لئے آس پاس کے مساجد میں علماء کرام کے پاس گئے لیکن انہوں نے ایسا نکاح پڑھانے سے انکار کردیا، اس کے بعد یہ دونوں عدالت میں گئے اور وکیل کے ذریعے کورٹ میرج کیا وکیل کی فیس 2300 ہزار روپے بھی عورت نے اپنی طرف سے دیا، ہمیں پتہ نہیں کہ یہ لوگ شب زفاف گزارنے کہاں گئے لیکن ہمارے بیٹے نے آج تک ایک رات بھی گھر سے باہر نہیں گزاری،ہمیں اس شادی کا چھ مہینے بعد پہ چلا مفتی صاحب ہم والدین یہ رشتہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ہم اپنے بچے کی زندگی برباد ہوتےہوئے نہیں دیکھ سکتے، اس کو اپنے بیٹے بیٹیوں سے فرصت نہیں، ان کی شادیاں کرانی ہیں میرے بیٹے کو وقت نہیں دے سکتی اور نہ ہم اس عورت کو بہو بنا کر اپنے گھر میں رکھنے کے لئے راضی ہیں، اس صورت میں ہم اپنے بیٹے سے اس کو طلاق دینے کا مطالبہ کرتے ہیں ہم آج بھی اس کا نکاح اپنی ہم عمر لڑکی سے کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن یہ اس کو طلاق نہیں دے رہا ہے ہم یہ بھی کہتے ہے کہ ٹھیک ہے اس کو اپنی جگہ رکھو ہم تمہاری دوسری شادی کرالیں گے اور تمہاری بیوی یہاں ہمارے پاس رہے گی لیکن یہ بات نہیں مانتا دو رائے پر کھڑے ہیں ، کوئی حل بتادیں اور یہ بھی بتائیں کہ والدین کی مرضی کے بغیر یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں ؟ اس کی ساٹھ سال کی ماں اس کی خدمت کرتی ہے یہ ہمارا سب سے لاڈلہ بیٹا ہے مکہ مکرمہ میں پیدا ہو ا ہے ہم اس کی جوانی کو برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتے،یہ پڑھا لکھا یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ ہے سافٹ ویر انجینیر بن رہا ہے لائق قابل ہے دین سے بھی واقف ہے ، وہ عورت اپنے سسرال میں رہتی ہے اس کے تین بیٹوں اور بیٹیوں کے علاوہ اس شادی کا کسی کو علم نہیں ہے اس عورت کے سابقہ شوہر کا قتل ہوا ہے اس لئے بھی ہمیں اپنے بیٹے کا خوف ہے،اس عورت کو ہم نے خط لکھ کر ناپسند دیدگی اور رشتہ ختم کرنے کا کہا تھا لیکن وہ ضد کرتی ہے بلکہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کا مثال دیتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ لڑکے یا لڑکی کا والدین کی اجازت ورضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا یا کورٹ میرج کرنا انتھائی ناپسندیدہ عمل ہے جو والدین اور پورے خاندان کی تذلیل وبدنامی کا باعث بنتا ہے تاہم اگر کوئی عاقل بالغ لڑکا والدین کی رضامندی کے بغیر باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرکے کورٹ میں نکاح کرلے تو ایسا نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے بیٹے کا نکاح بھی شرعاً صحیح منعقد ہوچکا ہے ،جس کے بعد مذکور عورت کو اپنے سابقہ شوہر سے اولاد کی دیکھ بال کےبجائے اپنے شوہر (سائل کے بیٹے) کے ساتھ ان کی منشاء کے مطابق رہائش اختیار کرنا اور ان کی حقوق کی ادائیگی کا اہتمام لازم ہے ۔تاہم اگر مذکور عورت اپنی سابقہ اولاد کی وجہ سے سائل کے بیٹے کو وقت نہیں دے سکتی یا ان کے ساتھ رہائش اختیار نہیں کرسکتی تو محض وقتی طور پر اپنی جذبات کی تسکین کی خاطر اس کے ساتھ اس رشتے کو برقرار رکھنا ,اس کے جذبات کے ساتھ کھیلنا, اسے والدین سے بد ظن کرنا یا ان کے اور والدین کے درمیان اختلافات پیدا کرنا یہ تمام امور شرعاً جائز نہیں، جس سے اسے اجتناب اور اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر وہ اس کیفیت کے ساتھ یہ رشتی برقرار رکھنا چاہتی ہے تو سائل کو اپنے بیٹے کے لئے جوڑ کا رشتہ ملنے پر دوسری شادی کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ بیٹے کی زندگی پر سکون ہونے کے ساتھ ساتھ مقاصد نکاح(بچوں کی ولادت) کا بھی تکمیل ہوسکے اور اس سلسلہ میں مذکور عورت کا رکاوٹ بننے کے بجائے مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

ماخذ الفتویٰ
کما فی الھندیۃ: ينعقد بالإيجاب والقبول وضعا للمضي أو وضع أحدهما للمضي والآخر لغيره مستقبلا كان كالأمر أو حالا كالمضارع، كذا في النهر الفائق الخ(الباب الثاني فيما ينعقد به النكاح وما لا ينعقد به،ج:1،ص:270،مط:مکتبہ ماجدیہ)
وفی الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرةالخ(کتاب النکاح،ج:3،ص:14،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما.(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)اھ(کتاب النکاح،ج:3،ص:21/22 ،مط:ایچ ایم سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94473کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات