کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی نے اپنے پوتے کو مدت رضاعت میں اپنا پستان منہ میں دیا تھا ،جبکہ میری بیوی کے بچوں کا سلسلہ اس سے تقریباً آٹھ سال قبل بند ہوچکا تھا ،اور یہ بات یقینی نہیں ہے کہ اس وقت پستان میں دودھ تھا یا نہیں ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ میرے اس پوتے (عاصم )کا نکاح میری نواسی (حسنیٰ)کیساتھ جائز ہے یا نہیں ؟جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرما ئیں،
واضح ہو کہ حرمت رضاعت کے ثبوت کیلئے بچے کے حلق میں مدت رضاعت میں دودھ جانا ضروری ہے (اگرچہ ایک قطرہ ہی کیوں نہ ہو ) دودھ پلائے بغیر محض منہ میں پستان دینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ، لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کی بیوی نے جب اپنے پوتے کے منہ میں پستان دیا تھا اس وقت قریب مدت میں اپنے بچوں کا سلسلہ نہ ہونے کی وجہ سے اگر اسے سینوں میں دودھ نہ ہونے کا یقین ہو، تو فقط پوتے کو خاموش کرانے یا کسی اور غرض سے بچے کے منہ میں سینہ دینے سے (جبکہ حلق میں دودھ اترنے کا یقین نہ ہو) ان دونوں کے درمیان حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی، لہذا سائل کے اس پوتے اور نواسی کا نکاح شرعاً جائز ہے،لیکن اگر احتیاطاً ان کے مابین نکاح کا عقد نہ کرایا جائے تو زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے ،تاکہ آئندہ زندگی شکوک وشبہات کا شکار نہ ہو ۔
کما فی الدر تحت قولہ: (ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكا ولوالجية، اھ (باب الرضاع،ج: 3،ص: 212،مط: دار الفکر بیروت)
و فی الفتح: أدخلت الحلمة في فم الصغير وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك،(كتاب الرضاع،ج: 3،ص: 439،مط: دار الفکر)
و فی البحر: لو أدخلت امرأة حلمة ثديها في فم رضيع ولا يدري أدخل اللبن في حلقه أم لا لا يحرم النكاح لأن في المانع شكا كذا في الولوالجية،اھ (كتاب الرضاع،ج: 3،ص: 238،مط: دار الکتاب الاسلامی)
و فی الموسوعۃ الفقھیہ: لو أدخلت المرأة حلمة ثديها في فم رضيعة ووقع الشك في وصول اللبن إلى جوفها لم تحرم، لأن في المانع شكا،اھ(الأصل في الأبضاع التحريم،ج: 32،ص: 93،مط: دار السلاسل)