کیا سید مستحق کےلئے زکوٰۃ لینا جائز ہے، جبکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو؟
واضح ہو کہ سید کے لیے زکوٰۃ اور صدقات واجبہ لینا شرعاً جائز نہیں،اگرچہ وہ مستحق اور ضرورت مند ہو، احادیث مبارکہ میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے، لہذا اگر سادات ضرورت مند ہوں تو مخیر حضرات کو ان کے ساتھ زکوٰۃ کے بجائے نفلی صدقات اور ہدایا وغیرہ کے ذریعہ تعاون کرنا چاہیے ، البتہ اگر کسی موقع پر نفلی صدقات سے ان کی مدد کی کوئی صورت نہ بن رہی ہو اور مجبوراً زکوٰۃ کی رقم سے ہی تعاون کرنا پڑے تو ایسی صورت میں یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ کسی مستحق زکوٰۃ کو ترغیب دی جائے کہ وہ کسی سے قرض لے کر سید کے ساتھ تعاون کرلے، اس سے ان شاء اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر ملے گا، اس کے بعد زکوٰۃ کی رقم اس مستحق شخص کو دیدی جائے، تاکہ اس رقم سے وہ اپنے قرض کی ادائیگی کرلے، اس طرح مالکان کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی اور سادات کی ضرورت بھی پوری ہوجائے گی۔
ففی الفتاوى الهندية: "ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي - صلى الله عليه وسلم - كذا في السراج الوهاج.هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في الكافي، وكذا لا يدفع إلى مواليهم كذا في العيني شرح الكنز".(كتاب الزكوة،الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:187)
وفیه أيضا: لو أراد صرفها إلی بناء المسجد أو القنطرة لا یجوز، فإن أراد الحیلة فالحیلة أن یتصدق به المتولي علی الفقراء، ثم الفقراء یدفعونه إلی المتولي، ثم المتولي یصرف إلی ذٰلک کذا في الذخیرۃ. (الفتاوی الهندية: 2/ 473 دار الفکر بیروت)