نکاح

لڑکی کے زبردستی کروائے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
94766
| تاریخ :
2026-04-30
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کے زبردستی کروائے ہوئے نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ھذا کے بارے میں کہ ایک عورت جو کہ عاقلہ بالغہ ہے ،اس کے والد اور بھائی نے بغیر اس کی رضامندی کے مار پیٹ اور زبردستی سے اس کا نکاح کرایا ہے، اور یہ عورت مسلسل انکار کرتی رہی یہاں تک کہ نہ نکاح کے وقت اقرار کیا اور نہ دستخط ،اور اب یہ عورت اپنی پسندیدہ مرد سے نکاح کرنا چاہتی ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ جس نکاح کو اس کے والد اور بھائی نے زبردستی کرایا ہے وہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عاقلہ بالغہ لڑکی کے والدین کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس پر زبر دستی کر کے اپنی پسند والی جگہ اسے نکاح پر مجبور کریں ، بلکہ لڑکی کی اجازت و رضا مندی کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعی عورت نے نکاح کے وقت نہ ہی انہیں اس شخص سے نکاح کرانے کی اجازت دی ہو ،اور نہ ہی نکاح نامہ پر دستخط کر کے اس پر بعد میں رضامندی کا اظہار کیا ہو ،بلکہ وہ مسلسل نکاح سے انکار کرتی رہی ہو تو ایسی صورت میں اس کی رضامندی کے بغیر زبردستی کیا گیا یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ،تاہم دوسری جگہ نکاح کرنے سے قبل اسے حتی الامکان والدین کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہے تاکہ بعد کے مسائل اور پریشانیوں سے بچا سکے ،تاہم والدین کی اجازت کے بغیر بھی یہ نکاح شرعاً منعقد ہوجائیگا بشرطیکہ کفؤ میں ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

‌کما فی الھندیة: لا ‌يجوز ‌نكاح ‌أحد ‌على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج اھ(كتاب النكاح،الباب الرابع في الأولياء في النكاح،ج: 1،ص: 287،مط: دار الفکر)
و فیہا ایضاً: (ومنها) رضا المرأة إذا كانت بالغة بكرا كانت أو ثيبا فلا يملك الولي إجبارها على النكاح عندنا، كذا في فتاوى قاضي خان اھ(كتاب النكاح،الباب الأول في تفسير النكاح،ج: 1،ص: 269،مط: دار الفکر)
و فی الدر: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ اھ(كتاب النكاح،باب الولي،ج: 3،ص: 57،مط: دار الفکر)
و فی البدائع: الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول، سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر، غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض،اھ(کتاب النکاح،فصل ولاية الندب والاستحباب في النكاح،ج: 2،ص: 247،مط: دار الکتب العلمیه)
و فی تبیین الحقائق: (ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) يريد به أنه لا يزوجها بغير رضاها فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها عندنا وإن ردته بطل وإن سكتت عند استئذان وليها لها فهو إذن منها اهـ.(كتاب النكاح،باب الأولياء والأكفاء،ج: 2،ص: 117،مط: دار الکتاب الاسلامی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94766کی تصدیق کریں
0     122
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات