فرماکر جلد فتویٰ عنایت فرمائے گا۔شکریہ
میری بیٹی لائبہ اقبال کی شادی 28 نومبر 2025 کو ہوئی four seasooo ہال میں ایک طرف عورتیں بیٹھی تھی ا ور ایک طرف مرد تھے،اور بچی لائبہ اقبال دلہن والے کمرے میں جو ہال ہی کا حصہ ہے سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی،نکاح رجسٹرار کاروائی مکمل ہونے کے بعد مفتی صاحب (نکاح خواں) نے مجھے رجسٹر دے کر بیٹی کے پاس بھیجا میرے ساتھ مقرر کردہ دو گواہ ایک بڑی بیٹی کا سسر اور دوسرا میرا سگا بڑا بھائی تھا ، دستخط انگوٹھے لگوانے کے بعد میں (صفدر اقبال ) نے اپنے بڑے بھائی ظفر اقبال سے کہا کہ بیٹی کو ایجاب وقبول کروائیں بڑے بھائی نے بیٹی لائبہ اقبال کو دولہا کا نام لیکر تین بار قبول کروایا (قبول کی عبارت) محمد حارث ولد محمد ریحان 20ہزار حق مہر کے عوض قبول ہے، بیٹی نے تینوں بار کہا قبول ہے،پھر میں گواہوں کے ہمراہ چھوٹے کمرے(وہ کمرہ ہال ہی کا حصہ ہے جو ہال والے دلہن کے بیٹھنے کے لئے مقرر کرتے ہے وہاں بیٹی لائبہ اقبال بیٹھی ہوئی تھی) سے سٹیج جہاں نکاح خواں مفتی صاحب دولہا ، اس کا والد ،دولہے کا بہنوئی اور میں لائبہ اقبال کا والد (صفدر اقبال ) بیٹھے تھیں نکاح رجسٹرار نکاح خواں کے حوالے کیا ، وہ فرمانے لگے کہ بیٹی سے اجازت لے کر آئیں، میں واپس جاکر بیٹی لائبہ اقبال سے اس طرح اجازت لی، لائبہ اقبال اجازت ہے، بیٹی نے کہا اجازت ہے،میں جب سٹیج پر آیا تو نکاح خواں مفتی صاحب نے کہا شروع کریں،میں نے کہ شروع کرو فرمانے لگے مائیک پر میں کہا مائیک پر شروع کرو، تو انہوں نے مائیک پر پہلے مجھ سے قبول کروایا کہ آپ کی بیٹی لائبہ 20ہزار حق مہر کے عوض دولہا محمد حارث کے نکاح میں دی جاتی ہے آپ کو قبول ہے میں نے کہا قبول ہے، تیسری بار میں نے کہا میری بیٹی لائبہ اقبال کو قبول ہے ۔ پھر نکاح خواں مفتی صاحب نے دولہا کو ان الفاظ سے قبول کروایا کہ لائبہ اقبال 20 ہزار حق مہر کے عوض میں محمد حارث آپ کو قبول ہے دولہے نے تینوں بار کہا قبول ہے،اس دوران میں خود بھی سٹیج پر موجود ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، مجھے اس وقت تو خیال نہ آیا کہ بیٹی کے نام کے بعد میرا نام صفدر اقبال کیوں نہیں لیا گیا اڑھائی مہینے بعد ایک ویڈیوں شادی کی دیکھی تو تشویش ہوئی کہ بیٹی کے بعد میرا نام صفدر اقبال (والد کانام ) لینا چاہئے تھا جو کہ نکاح خواں نے نہیں لیا ، اب عرض یہ ہے کہ اس ساری صورت حال کو سامنے رکھ کر مسئلہ تحریری صورت میں عرض فرمائیں تاکہ بندہ کسی وہم اور شک کا شکار نہ ہو ۔
(نوٹ) اللہ کے فضل وکرم سے ایک مقامی عالم دین سے یہی مضمون پر تفصیل دکھا کے مسئلہ پوچھا تھا وہ فرمارہے تھے کہ نکاح ہر لحاظ سے شریعت کے مطابق ہوچکا ہے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہےاور نہ نکاح احتیاطاً دہرانے کی، لیکن آپ کی خدمت اقدس میں مسئلہ اس لئے پیش کرہا ہوں کہ آپ کا ادارہ پوری دنیا میں دینی حوالے اور شریعت کے مطابق فتویٰ دینے میں معتبر اور بلند ترین مقام رکھتا ہے۔
واضح ہو کہ عقد نکاح کے وقت مجلس نکاح میں اگردلہن خود موجودنہ ہو،مگر گواہوں کو علم ہو کہ فلاں بچی جوکہ فلاں کی بیٹی ہے،کا نکاح ہورہا ہے، تو ایسی صورت میں ایجاب وقبول کرتے ہوئے منکوحہ کی ولدیت کا ذکر کرنا ضروری نہیں، بلکہ فقط منکوحہ کا نام لینا بھی کافی ہوجاتا ہے،لہذا سائل کی بیٹی کے نکاح کے وقت اگرچہ وہ مجلس نکاح میں موجود نہ تھی،مگر گواہوں کو علم تھا کی سائل کی بیٹی مسماۃ فلاں کے بارے میں یہ ایجاب وقبول کیا جارہا ہے، تو نکاح کے وقت سائل کا نام لئے بغیر فقط بیٹی کا نام لےکر ایجاب وقبول کرنے سے بھی یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہوچکا ہے، اس لئے بلا وجہ شکوک وشبھات میں پڑنے سے احتراز چاہئے۔
کما فی الدر المختار: غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح الخ(کتاب النکاح،ج:3،ص:26،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الرد تحت قوله: لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط الخ( کتاب النکاح،ج:3،ص:26،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة، فإن كانت حاضرة منتقبة كفى الإشارة إليها والاحتياط كشف وجهها (الیٰ قولہ) والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر. وعلى قول الخصاف يكفي مطلقا، ولا يخفى أنه إذا كان الشهود كثيرين لا يلزم معرفة الكل بل إذا ذكر اسمها وعرفها اثنان منهم كفى والظاهر أن المراد بالمعرفة أن يعرفها أن المعقود عليها هي فلانة بنت فلان الفلاني لا معرفة شخصها، وإن ذكر الاسم غير شرط، بل المراد الاسم أو ما يعينها مما يقوم مقامه لما في البحر الخ(کتاب النکاح،ج:3،ص:20/21 ،مط:ایچ ایم سعید)