نکاح

لڑکے کو وکیل بنانے کے بعد کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
94970
| تاریخ :
2026-05-05
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکے کو وکیل بنانے کے بعد کئے ہوئے نکاح کا حکم

ایک لڑکے نے ایک لڑکی سے کہا کہ تم مجھے اپنا وکیل بنا لو تو میں تم سے اپنا نکاح کر سکتا ہوں۔ لڑکی نے اس کی بات مان لی اور یوں فون پر بغیر گواہوں کے اس نے کہا کہ ایجاب اور قبول ہو گیا۔ جبکہ لڑکی کا والد زندہ ہے۔ لڑکے اور لڑکی کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا۔ بعد میں دونوں کے درمیان بہت لڑائیاں ہوئیں اور وہ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے، اور ان کے درمیان کوئی رابطہ بھی نہیں رہا۔ لڑکے نے کئی بار کہا کہ جہاں تمہارے ماں باپ کہیں وہاں شادی کر لو۔ لڑکی نے بھی کہا کہ وہ کر لے گی۔ لڑکے نے غصے میں “دفع ہو جاؤ” جیسے الفاظ بھی کئی بار کہے۔ آخر میں اس نے یہ بھی کہا کہ اب میں آزاد ہوں۔ لڑکی نے بھی لڑکے کی غیر موجودگی میں اس معاملے کو ختم کر دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ: کیا وہ لڑکی کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ نکاح فاسد خود بخود ختم ہو گیا ہے یا نہیں؟اگر ختم نہیں ہوا تو اسے کیسے ختم کیا جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکی نے اگر لڑکے کو باقاعدہ نکاح کرانے کی اجازت دیدی ہو، تو اس کی وجہ سے اگرچہ لڑکے کو نکاح کرانے کا اختیار تھا، لیکن نکاح کی صحت و درستگی کے لئے چونکہ مجلس نکاح میں باقاعدہ دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا بطورِ گواہ موجود ہونا اور گواہوں کا فریقین سے ایجاب وقبول کے الفاظ سننا ضروری ہے ،جبکہ سائلہ کے بقول مذکور لڑکے نے گواہوں کے بغیر ایجاب وقبول کرکے یہ نکاح کیاہے، اس لئے یہ نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوا بلکہ نکاح فاسد ہے، جس کا ختم کرنا دونوں پر لازم تھا، لہذا اس کے بعد جب مذکور لڑکے نے لڑائی اور جھگڑے کے دوران مذکور الفاظ’’دفع ہو جاؤ، تم آزاد ہو‘‘ بول دیئے تو اس سے یہ نکاح شرعا بھی بالکلیہ ختم ہوچکاہے۔اور اس نکاح فاسد کے ختم ہونے کے بعد مذکور لڑکی پر عدت بھی لازم نہیں بلکہ عدت گزارے بغیر وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في الهداية: واذا أذنت المرأة للرجل أن يزوجه من نفسه فعقد بحضرة الشاهدين جاز الخ(فصل فی الوکالة بالنکاح وغیرھا ج2، ص25 ، 27 ط:رحماینہ)۔
وفی الدرالمختار: (ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر، أو وليا من جانب وكيلا من آخر الخ(مطلب فی الوکیل والفضول فی النکاح ج3 ص97 ط:سعید)۔
وفی الھندیة: إذا وقع النكاح فاسدا فرق القاضي بين الزوج والمرأة فإن لم يكن دخل بها فلا مهر لها ولا عدة وإن كان قد دخل بها فلها الأقل مما سمى لها ومن مهر مثلها(الی قولہ)وتجب العدة ويعتبر الجماع في القبل حتى يصير مستوفيا للمعقود عليه ۔۔۔ والمتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة لكن لا ينتقص من عدد الطلاق وبعدم مجيء أحدهما إلى الآخر بعد الدخول لا تحصل المتاركة وقال صاحب المحيط وقبل الدخول أيضا لا تتحقق إلا بالقول ولكل فسخه بغير محضر صاحبه وبعده لا إلا بمحضر صاحبه كذا في الوجيز للكردري وعلم غير المتارك شرط لصحة المتاركة هو الصحيح حتى لو لم يعلمها لا تنقضي عدتها كذا في القنية والصحيح أن علمها بالمتاركة لا يشترط في الطلاق وعدة الوفاة لا تجب في النكاح الفاسد اھ (الباب الثامن في النكاح الفاسد وأحكامه، ج1، ص 330،ط: )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ ریحان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94970کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات