میں کراچی میں ایک چھوٹی سی موبائل شاپ چلاتا ہوں۔ اس وقت میری مالی حالت کمزور ہے اور مجھ پر تقریباً 80 لاکھ روپے کا قرض ہے۔
میری آمدنی غیر مستقل ہے اور اکثر گھر کے اخراجات ہی مشکل سے پورے ہو پاتے ہیں۔ میرے پاس کوئی خاص بچت یا اضافی اثاثہ موجود نہیں ہے۔ میری فیملی کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اس صورتحال میں زکوٰۃ لے سکتا ہوں اور کیا میں زکوٰۃ کی رقم اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کر سکتا ہوں؟
براہِ کرم میری شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح رہے کہ شرعا مستحق زکوۃ وہ غیر سید شخص ہوتا ہے جس کے پاس بنیادی ضروریات سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے مساوی کوئی چیز موجود نہ ہو، یا وہ اتنا مقروض ہو کہ اگر اس کے پاس موجود سرمایہ سے قرض کی رقم منہا کردی جائے تو اس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کی مساوی مالیت باقی نا رہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے پاس ضروریات اصلیہ کے علاوہ قرض کی رقم کو منہا کرنے کے بعد بقدر نصاب ( ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت )موجود نہ ہو ، اور سائل سید بھی نا ہو، تو ایسی صورت میں سائل شرعا زکوۃ کا مستحق ہے، اور اگر کوئی شخص اپنی زکوۃ کی رقم سائل کو دینا چاہے تو سائل کا اسے لینا اور اپنے استعمال میں لانا شرعا جائز ہے، تاہم ایسی صورت میں بھی سخت مجبوری کے بغیر سائل کے لیے از خود کسی سے زکوۃ کی رقم طلب کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔
قال الله تعالى في القرآن الكريم: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (60)(التوبة)
في المحيط البرهاني في الفقه النعماني لبرهان الدين بن مازة: الفصل العاشر في بيان ما يمنع وجوب الزكاة
فنقول: ما يمنع وجوب الزكاة أنواع، منها الذي قال أصحابنا رحمهم الله: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة، سواء كان الدين للعباد، أو لله تعالى كدين الزكاة.
فأما الكلام في دين العباد، فنقول: إنما منع وجوب الزكاة؛ لأن ملك المديون في القدر المشغول بالدين ناقص، ألا ترى أنه يستحق أخذه من غير مضار لا رضا، كأنه في يده غصب أو وديعة؟ ولهذا حلت له الصدقة، ولا يجب عليه الحج، والملك الناقص لا يصلح سبباً لوجوب الزكاة. اه (2/510، الفصل العاشر في بيان ما يمنع وجوب الزكاة)
و فيه أيضا: ولا يجوز أن يعطى من الزكاة فقراء بني هاشم، ولا مواليهم، قال عليه السلام «الصدقة محرمة على بني هاشم» ومولى القوم من أنفسهم، وقال عليه السلام: «يا بني هاشم إن الله تعالى كره لكم غسالة الناس، وعوضكم منها بخمس الخمس من الغنيمة».
قال: وبنو هاشم الذي تحرم عليهم الصدقة آل عباس، وآل جعفر، وآل عقيل، وآل علي، وولد الحارث بن عبد المطلب؛ لأن الله تعالى إنما حرم الصدقة على من عوضه عنه خمس الخمس من الغنيمة اه (2/495، الفصل الثامن في المسائل المتعلقة بمن تو ضع الزكاة فيه)
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1