نکاح

رضاعی والد کی دوسرے بیوہ سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
95137
| تاریخ :
2026-05-10
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رضاعی والد کی دوسرے بیوہ سے نکاح کا حکم

السلام علیکم! میں نے اپنے چچا کی ایک بیوی کا دودھ پیا ہے۔ اب میرے چچا فوت ہوچکے ہیں اور ان کی دوسری بیوی بیوہ ہیں۔ کیا میرا ان دوسری چچی سے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنے چچا کی جس بیوی کا دودھ پیا ہے، وہ اس کے حق میں رضاعی ماں جبکہ اس کا شوہر (چچا) رضاعی باپ کے حکم میں ہے، اور شرعاً رضاعی بیٹے کے لیےرضاعی باپ کی کسی بھی بیوی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ہوتا، لہٰذا چچا کے انتقال کے بعد بھی اس کی دوسری بیوہ سے سائل کا نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ردالمحتار:(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان.
(قوله: و أبوة زوج مرضعة لبنها منه) المراد به اللبن الذي نزل منها بسبب ولادتها من رجل زوج أو سيد فليس الزوج قيدًا بل خرج مخرج الغالب، بحر".(213/3 ط:ایچ ایم سعید)
وفی الفتاوی الھندیة: یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع و أصولھما وفروعھما من النسب و الرضاع جمیعاً … فالکل إخوة الرضیع و أخواته و أولادهم أولادہ إخوته و أخواته … كذا في التهذیب. (343/1 ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95137کی تصدیق کریں
0     114
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات