نکاح

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
95347
| تاریخ :
2026-05-15
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کا حکم

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزارش ہے کہ میں سنی عقیدے سے تعلق رکھتی ہوں، جبکہ لڑکا شیعہ فقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ دونوں اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ، قرآنِ مجید اور آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ لڑکا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین نہیں کرتا۔
والدہ کو سخت تشویش ہے کہ:
کیا ایسے لڑکے سے نکاح شرعاً جائز ہے یا یہ زنا کے زمرے میں آئے گا؟
کیا ایسی شادی کی وجہ سے والدین گناہ گار ہوں گے؟
لڑکے میں کوئی برائی نہیں، نہ اس کے خاندان میں کوئی برائی ہے، اور نہ ہی وہ مجھ سے فقہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ نکاح نامے میں ہماری شرائط لکھوانے کے لیے بھی تیار ہے، اس کے باوجود والدہ کو یہ تشویش ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اور شرعی طور پر یہ نکاح ممکن نہیں۔
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں تاکہ ہم کسی غلط فہمی سے محفوظ رہیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شیعوں کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد و نظریات بھی مختلف ہیں، اس لیے شیعہ لڑکے سے سنی لڑکی کے نکاح کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر لڑکا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتا ہو، قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو، حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کا عقیدہ رکھتا ہو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کا کوئی دوسرا قرآن کریم کے صریح نصوص کے خلاف کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو ایسے لڑکےسے سنی العقیدہ لڑکی کا نکاح قطعاً جائز نہیں۔ اور اگر مذکورہ لڑکا ان کفریہ عقائد سے بری ہو تو بھی وہ سنی العقیدہ لڑکی کا کفو نہیں، اس لیے اولیاء کی اجازت کے بغیر ایسا نکاح درست منعقد نہیں ہوگا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکا اگرچہ کفریہ عقائد کا حامل نہ ہو تب بھی مختلف مسلک ہونے کی وجہ سے ازدواجی زندگی اور اولاد کی دینی تربیت میں اختلافات کا اندیشہ رہتا ہے، اس لیے سائلہ کو چاہیے کہ والدہ کو ناراض کرکے یا ان کی مخالفت میں جذباتی فیصلہ کرنے کے بجائے کسی صحیح العقیدہ سنی مسلمان سے نکاح کو ترجیح دے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في تفسير ابن كثير: إن الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات لعنوا في الدنيا والآخرة ولهم عذاب عظيم(الى قوله) وقد أجمع العلماء رحمهم الله قاطبة على أن من سبها بعد هذا ورماها بما رماها به بعد هذا الذي ذكر في هذه الآية، فإنه كافر لأنه معاند للقرآن اھ(سورة النور:23،ج:3 ،ص:367 ،ط:قديمى كتب خانه)
وفي سنن الترمذى: عن أبي حاتم المزني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إذا ‌جاءكم ‌من ‌ترضون ‌دينه ‌وخلقه فأنكحوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد»، قالوا: يا رسول الله، وإن كان فيه؟ قال: «‌إذا ‌جاءكم ‌من ‌ترضون ‌دينه ‌وخلقه فأنكحوه»، ثلاث مرات۔اھ (‌‌باب ما جاء إذا جاءكم من ترضون دينه فزوجوه،ج:1،ص429،ط:البشرى)
وفی رد المحتار: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته اھ ( مطلب مهم في حكم سب الشيخين،ج:4،ص:237،ط:سعيد)
و فيہ أیضا: (قوله يا رافضي) قال في البحر: ولا يخفى أن قوله يا رافضي بمنزلة يا كافر أو يا مبتدع فيعزر؛ لأن الرافضي كافر إن كان يسب الشيخين مبتدع إن فضل عليا عليهما من غير سب كما في الخلاصة. اهـ.(باب التعزير ،ج:4،ص:70،ط:سعيد )
وفي الفتاوى الهندية: الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر رضي الله تعالى عنه لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة. ولو قذف عائشة - رضي الله تعالى عنها بالزنی كفر بالله إلى قوله من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضي الله عنه، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر - رضي الله عنه- في أصح الأقوال كذا في الظهيرية اھ (الباب فى أحكام المرتدين،ج:2،ص 264،ط:ماجدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95347کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات