مصارف زکوۃ و صدقات

غیر رہائشی مدرسہ کیلئے زکوۃ،فطرہ اور قربانی کی کھالیں جمع کرنا

فتوی نمبر :
95477
| تاریخ :
2026-05-18
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

غیر رہائشی مدرسہ کیلئے زکوۃ،فطرہ اور قربانی کی کھالیں جمع کرنا

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری جامع مسجد مدینہ ومدرسہ شاہ فیصل(ٹرسٹ) عرصہ دراز سے لوہار برادری کے زیر اہتمام ہے، ہمارے مدرسے میں تقریباً 150 کے قریب بچے اور اتنی ہی تعداد میں بچیاں زیر تعلیم ہیں،ہم ہر بچے اور بچی سے ماہانہ فیس(شعبہ ناظرہ)300 روپے(شعبہ حفظ)1000 روپے وصول کررہے ہیں، فیس تمام بچوں اوربچیوں سے وصول کی جاتی ہے، اس مدرسہ میں رہائشی طالبِ علم نہیں ہے،آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ ہم اپنے مدرسے کے نام سے زکوۃ، فطرہ اور قربانی کی کھالیں جمع کرسکتے ہیں یا نہیں؟یاد رہے کہ ہم دو سال سے زکوۃ ،فطرہ ور کھالیں جمع کرہے ہیں ،کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زکوۃ اور صدقاتِ واجبہ کے حقدار اور مصرف وہ لوگ ہیں جو بالغ ہونے کی صورت میں خود اور نابالغ ہونے کی صورت میں ان کے والدیا ولی غیر صاحبِ نصاب ( یعنی ان کی ملکیت میں ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر سونا ، چاندی ،کیش رقم اور ضرورت سے زائد سامان موجود نہ ہو) یا مسافر اور غیر سید ہو، اور انہیں زکوۃ اور صدقات واجبہ کی رقم باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدی جائے ورنہ زکوۃ دینے والوں کی زکوۃ ادا نہ ہوگی،لہذا سوال میں مذکور مدرسہ میں زکوۃ وغیرہ کے صرف کرنے کا کوئی مصرف نہ ہو تو اس مدرسہ کی انتظامیہ کا عوام الناس سے زکوۃ اور دیگر صدقات ِ واجبہ یا چرم قربانی وصول کرکے براہ راست مدرسہ کے اخراجات میں صرف کرنا جائز نہیں ، البتہ اگر سائل اپنے مدرسہ کی تعلیمی یا معاون تعلیمی امور کی ضروریات کے لئے زکوۃ کی رقم لینا چاہتا ہوں اور مدرسہ کو اس کی ضرورت بھی ہو تو اس کے لئے تملیک کے طریقے کو اپنائے،جسکی صورت یہ ہے کہ مہتمم ادارہ کوخود یا ادارے سے وابستہ کسی اور شخص کو زکوۃ دینے والا اس کی زکوۃ کی رقم مستحق تک پہنچانے کا وکیل بنائے اور پھر مہتمم ادارہ یا دیگر مجاز افراد مستحق طلبہ کو باقاعدہ اس مال کا مالک بنا کر دیدے اس طورپر کہ اگر مستحق طالب ِعلم یہ رقم خودخرچ کرنا چاہےتو اس کا بھی اسے مکمل اختیار ہو، لہذا اس طرح تملیک کے بعد اگر طالبِ علم اپنی مرضی سے یہ رقم مدرسہ کے اخراجات کے لئے مہتمم یا دیگر مجاز افراد کو عطیہ کردے تو اس عمل سے زکوۃ کی ادائیگی درست ہوجا ئیگی اور تملیک کا عمل بھی مکمل ہو جائیگا،اس کے بعد مہتمم ِادارہ اگر چاہے تو اس رقم کو حسبِ ضابطہ ادارہ کی ضروریات میں خرچ کرسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر مع الرد:ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط.(كتاب الزكاة،باب المصرف، 3/341،ط: رشيدية)
فی الھندیۃ: لايجوز أن يبنی بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولايجوز أن يكفن بها ميت، ولايقضى بها دين الميت، كذا في التبيين". اھ (کتاب الزکاۃ، ج:1،ص:188 مط: رشیدیہ)
وفی الدر المختارایضاً:وقدمنا لأن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم اھ(باب مصرف الزكاة والعشر،ج:2،ص:345،مط:ایچ ایم سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95477کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات