السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میری خالہ کی بیٹی 11 سال کی ہے اور میری عمر 30 سال ہے تو کیا میں اس سے نکاح کر سکتا ہوں؟ اگر کر سکتا ہوں تو چھپ کر کرنا چاہوں گا، جب لڑکی 16 سے 18 کی ہو جائے گی تو لوگوں کو بتا دوں گا۔ ابھی صرف میری والدہ اور ان کے والدین کو پتہ ہوگا اور کیا نکاح کے بعد اپنے ساتھ رکھ سکتا ہوں؟ کوئی حل بتائیں لوگوں کے طعنوں اور قانون سے بچنے کا۔
واضح ہو کہ نکاح میں اصل یہ ہے کہ علی الاعلان کیا جائے، تاکہ لوگوں کو کسی بھی قسم کی بدگمانی کا موقع نہ ملے اور میاں بیوی سکون کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکیں، چونکہ والدین کی اجازت اور ان کے علم میں لائے بغیر خفیہ نکاح کرنا شریف خاندانوں میں بہت ہی زیادہ معیوب سمجھا جاتا ہے اور عموماً اس طرح چھپ کر کیا جانے والا نکاح والدین کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے، لہذا سائل کو بھی اپنی خالہ زاد بہن سے خفیہ نکاح کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، تاہم اگر سائل اور اس لڑکی کے والدین اس رشتہ پر آمادہ ہوں اور خاندان کے چند معزز افراد کی موجودگی میں نکاح کرلیا جائے تو اس طرح نکاح کرنا شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا، چنانچہ اس کے بعد سائل کے لیے لڑکی کو اپنے ساتھ رکھنا بھی درست ہوگا۔
ففي المفاتيح في شرح المصابيح: «قوله: "أعلنوا هذا النكاح" هذا إشارة إلى نكاح المسلمين؛ يعني: أعلنوا نكاحكم، بأن تجعلوه في المساجد، وأن تضربوا الدفوف فيه؛ لأنه لو جرى النكاح ولم يجر الإعلان، فلم يدر الناس بالنكاح، وربما رأوا رجلا متخليا بامرأته؛ فيطالبونه بالإتيان ببينة النكاح، فعجز عن الإتيان بالبينة؛ فيضربونهما وينسبونهما إلى الزنا، ويقع الناس بسببهما في الغيبة والبهتان.»(4/ 41)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: ويندب إعلانه) أي إظهاره والضمير راجع إلى النكاح بمعنى العقد لحديث الترمذي «أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد واضربوا عليه بالدفوف» فتح. (3/ 8)