نکاح

نکاح کے گواہوں کا نکاح نامہ میں دستخط ہونا ضروری ہے

فتوی نمبر :
95810
| تاریخ :
2010-09-04
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح کے گواہوں کا نکاح نامہ میں دستخط ہونا ضروری ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میری شادی کورٹ میں ہوئی تھی، لڑکی بھی موجود تھی، مولوی صاحب نے نکاح پڑھایا، نکاح نامہ پر دستخط ہوئے اور حق مہر بھی طے ہوا، میرے ساتھ نکاح میں میرے دو (2) دوست بھی موجود تھے۔ نکاح کے بعد میں نے آپ کی ویب سائٹ پر ایک فتویٰ دیکھا جس میں لکھا تھا کہ اگر نکاح نامہ میں درج گواہ نکاح کے وقت موجود نہ ہوں تو نکاح نہیں ہوتا، ظاہر ہے کورٹ میں وکیل وغیرہ پیسے دے کر گواہوں کے دستخط کرواتے ہیں اور ان کے شناختی کارڈ نمبر درج ہوتے ہیں، لیکن وہ نکاح کے وقت موجود نہیں تھے۔ البتہ میرے دو (2) دوست موجود تھے اور ان کی موجودگی میں نکاح ہوا، کیا یہ نکاح صحیح شمار ہوگا؟ نکاح کے بعد سے اب تک وہ لڑکی اپنے گھر پر ہے، رخصتی ابھی تک نہیں ہوئی۔ براہِ کرم بتائیں کہ کیا دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا یا یہ نکاح صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ صحتِ نکاح کی منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نکاح شرعی گواہان کی موجودگی میں کیا جائے، چنانچہ سائل اگر مذکور لڑکی کا کفو ہو اور شرعی گواہان کی موجود گی میں ایجاب وقبول ہوا ہو (اگرچہ نکاح نامہ میں درج کیے گئے گواہان مجلس نکاح میں موجود گواہان کے علاوہ ہوں) تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہوچکا ہے، تجدید نکاح کی ضرورت نہیں، البتہ عاقل بالغ لڑکا لڑکی کا اس طرح والدین سے چھپ کر نکاح کرنا بڑی بے شرمی اور جسارت پر مبنی عمل ہے، شریف خاندانوں میں اس طرح کے نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس طرح کا نکاح والدین کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے، اس لیے والدین اور اولیاء کی رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، جبکہ نکاح نامہ میں مجلس نکاح میں موجود گواہان کے علاوہ دیگر گواہان کے نام درج کروانا بھی جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی عمل ہے جس پر توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي البحر الرائق: (قوله نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي) ؛ لأنها تصرفت في خالص حقها وهي من أهله لكونها عاقلة بالغة ولهذا كان لها التصرف في المال ولها اختيار الأزواج، وإنما يطالب الولي بالتزويج كي لا تنسب إلى الوقاحة ولذا كان المستحب في حقها تفويض الأمر إليه والأصل هنا أن كل من يجوز تصرفه في ماله بولاية نفسه يجوز نكاحه على نفسه وكل من لا يجوز تصرفه في ماله بولاية نفسه لا يجوز نكاحه على نفسه، ويدل عليه قوله تعالى {حتى تنكح} [البقرة: 230] أضاف النكاح إليها ومن السنة حديث مسلم «الأيم أحق بنفسها من وليها» وهي من لا زوج لها بكرا كانت أو ثيبا، فأفاد أن فيه حقين حقه وهو مباشرته عقد النكاح برضاها، وقد جعلها أحق منه ولن تكون أحق إلا إذا زوجت نفسها بغير رضاه. (3/ 117)
وفي الفتاوى الهندية: «(ومنها) سماع كل من العاقدين كلام صاحبه هكذا في فتاوى قاضي خان ولو عقدا النكاح بلفظ لا يفهمان كونه نكاحا ينعقد، وهو المختار هكذا في مختار الفتاوى. (ومنها) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع وشرط في الشاهد أربعة أمور: الحرية والعقل والبلوغ والإسلام.» (1/ 267)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95810کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات