نکاح

صرف ایک عورت کی موجودگی میں نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
95812
| تاریخ :
2026-05-29
معاملات / احکام نکاح / نکاح

صرف ایک عورت کی موجودگی میں نکاح کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میرا سوال صرف اصولی نوعیت کا ہے، تفصیل کے بغیر، اگر نکاح کے وقت صرف ایک عورت گواہ ہو اور دو مرد گواہ موجود نہ ہوں، تو کیا ایسا نکاح صحیح ہوگا یا باطل شمار ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا جواب عنایت فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے معاملہ میں تنہا عورت کی گواہی معتبر نہیں، چنانچہ اگر صرف عورت (خواہ ایک ہو یا زیادہ) کی موجودگی میں عاقدین ایجاب وقبول کرلیں تو اس سے نکاح درست منعقد نہ ہوگا، بلکہ یہ نکاح شرعاً فاسد کہلائے گا، جس کا ختم کرنا ضروری ہے ، چنانچہ لڑکا یوں کہہ دے کہ مثلاً میں نے تمہیں چھوڑ دیا وغیرہ تو اگر ہمبستری نہ ہوئی ہو تو لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی اور اگر اس نکاح کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان جنسی تعلق قائم ہوچکا ہو تو ایسی صورت میں عورت پر عدت بھی لازم ہوگی اور اگر بچہ ہواجائے تو اس کا نسب بھی ثابت ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفتاوى الهندية: «ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع ولا يشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين، كذا في الهداية ولا ينعقد بشهادة المرأتين بغير رجل وكذا الخنثيين إذا لم يكن معهما رجل هكذا في فتاوى قاضي خان.» (1/ 267)
وفي الدر المختار: «(ويجب مهر المثل في نكاح فاسد) وهو الذي فقد شرطا من شرائط الصحة كشهود» (3/ 131)
وفي حاشية ابن عابدين: «وذكر في البحر هناك عن المجتبى أن كل نكاح اختلف العلماء في جوازه كالنكاح بلا شهود فالدخول فيه موجب للعدة.» (3/ 132)
وفي حاشية ابن عابدين: «(قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق، وعدم مجيء أحدهما إلى آخر بعد الدخول ليس متاركة لأنها لا تحصل إلا بالقول. وقال صاحب المحيط: وقبل الدخول أيضا لا يتحقق إلا بالقول. اهـ. وخص الشارح المتاركة بالزوج كما فعل الزيلعي لأن ظاهر كلامهم أنها لا تكون من المرأة أصلا مع أن فسخ هذا النكاح يصح من كل منهما بمحضر الآخر اتفاقا. والفرق بين المتاركة والفسخ بعيد كذا في البحر.» (3/ 133)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95812کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات