السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ، حضرت مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر مایو اور مہندی کی رسم اس طور سے ادا کرنا کہ کوئی خرافات نہ ہوں، مثلا مردو زن کا اختلاط اور موسیقی وغیرہ کا کوئی انتظام نہ کیا جائے اور چند عورتوں کو بلا لیا جاۓ اور دعوت وغیرہ کا انتظام کیا جائے اور دلہن تیار ہو کر آجاۓ تو اس طرح کرنا اور ان کے ساتھ شریک ہونا کیسا ہے ؟
مایوں اور مہندی کی مروجہ رسم جن مخصوص اعتقاد، لوازمات یا غیر شرعی امور کے ساتھ ادا کی جا تی ہے ان رسومات کےساتھ اسے ادا کرنا اور اس میں شرکت کرناجائز نہیں جس سے بہرصوت اجتناب لازم ہے۔ البتہ اگر اس موقع پر مرد و زن کا اختلاط، موسیقی، اسراف، بے پردگی اور دیگر شرعی ممنوعات کاارتکاب نہ ہوں، اور صرف چند خواتین جمع ہو کر دلہن کی تیاری، ملاقات اور دعوتِ طعام کا اہتمام کریں، تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔
تاہم مسلمانوں کو چاہیے کہ شادی بیاہ کی تقریبات کو غیر ضروری رسموں کے بجائے سادگی اور سنت کے مطابق انجام دیں، اور ایسی رسوم کو اختیارکرنے سے گریزکریں۔
كماقال الله تعالي في التنزيل : ﴿وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيرًا ٢٦ إِنَّ ٱلۡمُبَذِّرِينَ كَانُوٓاْ إِخۡوَٰنَ ٱلشَّيَٰطِينِۖ وَكَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لِرَبِّهِۦ كَفُورٗا ٢٧﴾ [الإسراء: 26-27]
وفي «سنن أبي داود» : عن عائشة رضي الله عنها، قالت: أومت امرأة من وراء ستر بيدها، كتاب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقبض النبي صلى الله عليه وسلم يده، فقال: «ما أدري أيد رجل، أم يد امرأة؟» قالت: بل امرأة، قال: «لو كنت امرأة لغيرت أظفارك» يعني بالحناء(4/ 77 ت محيي الدين عبد الحميد)
وفي «مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» :«وأما خضب اليدين والرجلين، فيستحب في حق النساء ويحرم في حق الرجال إلا للتداوي.»(7/ 2828)