نکاح

لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرنا

فتوی نمبر :
95966
| تاریخ :
2026-06-03
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرنا

السلام علیکم مفتی صاحب!
میری عمر ابھی کم ہے اور میرے والد میری مرضی کے خلاف میری شادی جلدی اور زبردستی کرنا چاہتے ہیں، جبکہ میرے بھائی کی کم عمری میں شادی کی وجہ سے ان کے گھر میں روزانہ جھگڑے ہوتے رہتے ہیں، جس کو دیکھ کر میں خوفزدہ ہو گئی ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں لڑکی کی مرضی کے بغیر یا زبردستی شادی کرنا جائز ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ میں پسند کی شادی کے لیے "یا ودود" اور درود شریف کا وظیفہ پڑھ رہی تھی، لیکن ایام (Periods) کی وجہ سے درمیان میں چھوڑ دیا۔ کیا میں ایام کے دوران درود شریف اور اللہ تعالیٰ کے ناموں کا ذکر جاری رکھ سکتی ہوں؟ اور کیا درمیان میں وظیفہ چھوڑ دینے سے کوئی نقصان یا برا اثر ہوتا ہے؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1)شريعت مطهره ميں والدين كے ليےحكم هے كه وه بيٹي كے جوان هوتے هي اس كے ليے مناسب رشته تلاش كركے جلدازجلدرخصتي كي ترتيب بناديں،ليكن اس كے ساتھ انھيں اس بات كابھي پابندبناياگياهے كه نكاح كے معامله ميں اس كے ساتھ زبردستي كرنے سےگريزكريں بلكه نكاح كے موقع پرلڑكي كي رضامندی ملحوظ رکھیں تاکہ نکاح کے بعدمیاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ سے کسی قسم کی پریشانی کاسامنانہ کرناپڑے، اس لیے سائلہ اوراس کے والدین کوچاہیےکہ وہ نکاح جیسے اہم معاملہ کوباہمی مشاورت ،حکمت اور افہام و تفہیم سے حل کریں۔
(2) ایامِ حیض میں قرآنِ مجید کی تلاوت (بطورِ تلاوت) درست نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا ذکر، درود شریف، اسمائے الٰہی، دعا اور وظائف کا پڑھنا بالکل جائز بلکہ مستحب ہے۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں۔
(3) وظیفہ درمیان میں چھوڑ دینے سے کوئی گناہ یا برا اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی قبولیت پر کوئی منفی اثر پڑتا ہے۔ لہذابلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔لہٰذا سائلہ اطمینان کے ساتھ ذکر و دعا جاری رکھ سکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : لا ‌يجوز ‌نكاح ‌أحد ‌على ‌بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج. ولو ضحكت البكر عند الاستئمار أو بعدما بلغها الخبر فهو رضا هكذا ذكر القدوري وشيخ الإسلام، كذا في المحيط وهكذا في الكافي. وقالوا إن ضحكت كالمستهزئة لما سمعت لا يكون رضا، كذا في المبسوط للإمام السرخسي والكافي. وعليه الفتوى، وفي حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي : فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به كما قدمناه عن العيون لأبي الليث وأن مفهومه أن ‌ما ‌ليس ‌فيه ‌معنى ‌الدعاء كسورة أبي لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية»(1/ 293)
وفي التاتارخانیة : قال رسول اللہ ﷺ: إذا استغفرت الحائض فی وقت کل صلاۃ سبعین مرۃ کتب لھا ألف رکعة وغفر لھا سبعون ذنبا… ومنھا أن لا تقرء القرآن عندنا ،والآٰیة ومادونھا فی تحریم القراءۃ سواء،وھذا إذا قصدت القرءۃ ،فإن لم تقصد بھا نحو أن تقرءالحمد للہ شکرا للنعمة فلابأس.(1/480)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95966کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات