السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ ایک لڑکی کی خالہ کا طلاق ہو چکی ہے اور ان کی عدت بھی مکمل ہو چکی ہے۔ خالہ کا سابق شوہر اس لڑکی کا کوئی نسبی (خونی) رشتہ دار نہیں ہے۔
کیا شریعت کی رو سے اس لڑکی کا اس شخص سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح هوكه خالہ اور بھانجی کو ایک وقت میں ایک ہی شخص کے نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں، لیکن اگرخالہ یابھانجی کانکاح کسی بھی وجہ سے ختم ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے تو یہ ممانعت باقی نہیں رہتی۔ لہذاسوال میں مذكور لڑکی اوراس كي خاله كے سابق شوهرکے درمیان کوئی نسبی، رضاعی یا مصاہرتی ایسا رشتہ موجودنه هو جو نکاح کو حرام کرتا ہو، تو اس لڑکی کا اپنی خالہ كي عدت کےبعداس كے سابق شوہر سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے۔
كمافي «المبسوط» للسرخسي : إذا كان تحت الرجل امرأة فأختها محرمة عليه إلى غاية وهي أن يفارقها، وكذلك ما في معنى الأخت كالعمة والخالة وبنت الأخ وبنت الأخت ثبت ذلك بقوله تعالى {وأن تجمعوا بين الأختين} [النساء: 23] وبقوله صلى الله عليه وسلم «لا تنكح المرأة على عمتها، ولا على خالتها، ولا على ابنة أختها، ولا على ابنة أخيها».(30/ 289)