"محترم سکالر / مفتی صاحب،
میں درج ذیل بالکل عین مطابق حالات میں کیے گئے نکاح کی صحت کے بارے میں ایک حتمی "ہاں" یا "ناں" کے شرعی حکم کی درخواست کر رہا ہوں۔ ہم شریعت میں اس مخصوص معاہدے (نکاح) کی قطعی شرعی حیثیت جاننا چاہتے ہیں، نہ کہ محض عام مشورہ کہ احتیاط کے طور پر اسے دوبارہ کر لیا جائے۔نکاح کے حالات درج ذیل ہیں:
پلیٹ فارم: نکاح مکمل طور پر آن لائن ایک آڈیو/ویڈیو کال کے ذریعے منعقد کیا گیا تھا۔
مقامات: دلہن اور میں (دولہا) دو بالکل الگ الگ جسمانی مقامات پر موجود تھے۔
نکاح پڑھانے والا اور گواہان: ایک امام اور دو گواہوں کو آن لائن (فائیور - Fiverr کے ذریعے) ہائر (اجرت پر حاصل) کیا گیا تھا۔ ہائر کیے گئے گواہان امام کے مقام پر اس کے ساتھ جسمانی طور پر موجود تھے اور کال سن رہے تھے۔
ولی (سرپرست): دلہن یتیم ہے۔ اس کا واحد زندہ مرد رشتہ دار جو اس کا سرپرست بن سکتا تھا، اس کا نانا (نانا ابو) ہے۔ تاہم، ان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا تھا۔ ان سے نہ تو کبھی اجازت مانگی گئی اور نہ ہی کسی بھی مرحلے پر اس شادی کی اطلاع دی گئی۔
نئے ولی کا تعارف (مقرر کرنا): دلہن نے اپنے نانا کی لاعلمی یا ان کی طرف سے ولایت کے حقوق منتقل کیے بغیر، تقریب کے لیے ہائر کیے گئے آن لائن امام کو یکطرفہ طور پر اپنا ولی مقرر کر دیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ بغیر ولی کے نکاح کے حوالے سے بڑے فقہی مذاہب کے درمیان آراء کا اختلاف موجود ہے، اور ساتھ ہی ایک ریموٹ (آن لائن) نکاح کے دوران مجلس کے ایک ہونے (اتحادِ مجلس) کی شرائط کے بارے میں بھی۔
میرا سوال:
ان تمام متغیرات کو مدنظر رکھتے ہوئے—خاص طور پر کال پر دولہا اور دلہن کی جسمانی علیحدگی، گواہوں کا ہائر کیا جانا اور ان کا صرف امام کے ساتھ موجود ہونا، اور دلہن کے نانا کو بطور سرپرست مکمل طور پر نظر انداز کرنا—کیا یہ مخصوص نکاح شرعی طور پر جائز اور نافذ العمل ہے؟ ہاں یا ناں؟"
واضح ہو کہ نکاح کی صحت اور درستگی کے لیے لڑکا لڑکی یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیل کا باقاعدہ مجلس نکاح میں مو جود شرعی گواہان (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کے سامنے ایجاب و قبول کرنا اور گواہان کا اسے بالمشافھہ سننا شرعاً لازم ہے، چنانچہ اگر مذکور صورت میں لڑکا و لڑکی نے امام کو اپنے نکاح کا وكیل مقرر کیا ہو اور اس نے گواہان کی موجودگی میں فریقین (لڑکا اور لڑکی) کے وکیل کی حیثیت سے دونوں کا نکاح پڑھا دیا ہو اور وہ دونوں باہم کفو بھی ہو، تو شرعاً ىہ نکاح درست منعقد ہو چکا ہے، اگرچہ اس میں لڑکی کے نانا کی رضامندی اور رائے شامل نہ کی گئی ہو، البتہ اگر ان دونوں نے نکاح خواں کو وکیل بنانے کے بجائے خود سے آن لائن ایجاب و قبول کیا ہو، یا ان میں سے کسی ایک فریق نے امام کو وكیل مقرر کیا ہو،اور اس نے بطور وکیل دوسرے فریق سے آن لائن ایجاب و قبول کیا ہو، تو ایسی صورت میں یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا، بلکہ وہ دونوں بدستور اجنبی ہے، اور اس نکاح کی بنیاد پر میاں بیوی کی حیثیت سے اس رشتہ کو برقرار رکھنا جائز نہ ہوگا، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما في الدرالمختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال اھ
وفي رد المحتار تحت قوله: (اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد الخ (کتاب النکاح، ج: 3 ص: 14 ط: سعید)
وفیه أیضاً: (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) اھ (کتاب النکاح، ج:3 ص: 22 ط: سعید)
وفي بدائع الصنائع: وأما بيان وقت هذه الشهادة - وهي حضور الشهود - فوقتها وقت وجود ركن العقد - وهو الإيجاب والقبول - لا وقت وجود الإجازة اهـ [كتاب النكاح، فصل بيان وقت هذه الشهادة في النكاح، ج: ٢ص: 256 ط: سعید)]
وفي بدائع الصنائع أيضاً: وأما بيان أن النكاح هل ينعقد بعاقد واحد أو لا ينعقد إلا بعاقدين فقد اختلف في هذا الفصل، قال أصحابنا: ينعقد بعاقد واحد إذا كانت له ولاية من الجانبين، سواء كانت ولايته أصلية، كالولاية الثابتة بالملك والقرابة، أو دخيلة كالولاية الثابتة بالوكالة؛ بأن كان العاقد مالكا من الجانبين (إلى قوله) أو كان وكيلا من الجانبين، أو رسولا من الجانبين، أو كان وليا من جانب ووكيلا من جانب آخر، أو وكلت امرأة رجلا ليتزوجها من نفسه، أو وكل رجل امرأة لتزوج نفسها منه، وهذا مذهب أصحابنا الثلاثة اهـ [كتاب النكاح، فصل ركن النكاح، ج:2 ص:231 ط: دار الكتب العلمية)]