السلام علیکم!میرے 2 سوال ہیں
1۔ میری ایک دوست ہے جس کے والد نے اس کے لیے ترکے میں پچیس لاکھ کے قریب پیسے چھوڑے ،ان پیسوں سے اس نے ایک فلیٹ خرید لیا، وہ خود انتہائی مالی مشکلات کا شکار ہے، بیوہ ہے اور اس کے دو بچے ہیں، اس کی صحت اتنی خراب ہو گئی ہے کہ وہ ایک مستقل جاب نہیں کر سکتی تو کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے،کوئی بچت یا سونا، چاندی نہیں ہے، بہن بھائیوں میں سے کوئی مدد نہیں کر رہا، ہم چند دوست ہیں جو خر چے میں اس کی مدد کرتے ہیں ،میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اس کو زکوۃ دے سکتی ہوں ؟
2۔ میں پچھلے پانچ سال سے اس کی مدد کر رہی ہوں جو کہ میں نے اس کو یہ سوچ کے دی کہ میں اس کو صدقہ دے رہی ہوں ،کیا جو مدد کر چکی، اس پر اب زکوۃ کی نیت کر سکتی ہوں؟ والسلام
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کی دوست واقعۃ مستحق زکوۃ ہو، یعنی مذکور فلیٹ اس کے استعمال میں ہو،اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر مال تجارت یا نقدی یا ضرورت سے زائد سامان موجود نہ ہو اور وہ سادات میں سے بھی نہ ہو، تو سائلہ اس کو اپنی زکوۃ دے سکتی ہے،زکوۃ کی ادائیگی کیلئے چونکہ مستحق شخص کو زکوۃ دیتے وقت یا زکوۃ کی رقم الگ کرتے وقت نیت کرنا لازم ہے،لہذا سائلہ نے اب تک جو پیسے دیے ہیں، اگر وہ زکوۃ کی نیت سے علیحدہ نہیں کئے اور نہ ادائیگی کے وقت زکوۃ کی نیت تھی ،اور سائلہ کی دوست وہ پیسے خرچ کر چکی ہو(جیسا کہ سوال سے بھی ظاہر ہو رہا ہے ) تو اب اس میں زکوۃ کی نیت کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی ۔
کما فی الھندیه: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي اھ (کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف،ج: 1،ص: 187،مط: دار الفکر بیروت)
و فی البحر: يجوز دفع الزكاة إلى من يملك ما دون النصاب أو قدر نصاب غير تام، وهو مستغرق في الحاجةاھ (کتاب الزکوۃ، باب مصرف الزكاة،ج: 2،ص: 258،مط: دار الکتاب الاسلامی)
و فی مختصر القدوری: ولا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا من أي مال كان ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبااھ(كتاب الزكاة،باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز،ج: 1،ص: 60،مط: دار الکتب العلمیه)
و فی الھندیۃ:وإذا دفع إلى الفقير بلا نية ثم نواه عن الزكاة فإن كان المال قائما في يد الفقير أجزأه، وإلا فلا كذا في معراج الدراية والزاهدي والبحر الرائق والعيني وشرح الهداية.(کتاب الزکوۃ:ج:1،ص:171،ط:دارالفکر)
و فی مجمع الانهر: وشرط) صحة (أدائها) أي كونها مؤداة (نية) لأنها عبادة مقصودة فلا تصح بدونها (مقارنة للأداء) المراد أن تكون مقارنة للأداء للفقير أو الوكيل ولو مقارنة حكمية كما إذا دفع بلا نية ثم حضرته النية والمال قائم في يد الفقير فإنه يجزيه بخلاف ما إذا نوى بعد هلاكه.(کتاب الزکوۃ:ج:1،ص:195،ط:دار إحياء التراث العربي)
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1