نکاح

عورت کی وکالت کے ساتھ کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
96172
| تاریخ :
2026-06-08
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عورت کی وکالت کے ساتھ کئے ہوئے نکاح کا حکم

میں نے ایک لڑکی سے آنلاین نکاح کیا ہے میں ایک مفتی صاحب کے پاس گیا اور انہوں نے لڑکی سے بات کی اور اس کے وکیل بن کر دو بالغ گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کا وکیل بن کر مجھ سے ایجاب و قبول کروایا اور حق مہر بھی طے ہوا ہے ان سب میں ہم دونوں کے گھر والے شامل نہیں تھے اور لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ اور عاقل ہے تو کیا یہ نکاح ہو گیا ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی لڑکی نے مذکورمفتی صاحب کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کیا تھا، پھر وکیل نے مجلس عقدمیں دو عاقل، بالغ مسلمان گواہوں کی موجودگی میں باقاعده حق مہرکے تقررکے ساتھ ایجاب و قبول کیاہو،اوریہ لڑکالڑکی باہم کفوءبھی ہوں، تو اس صورت میں اگرچہ لڑکااورلڑکی کے والدین مجلس نکاح میں موجود نہ بھی ہوں،تب بھی اصولی طور پرمذکور نکاح درست منعقد ہو چکا ہے ۔ تاہم اولاد کے لیے والدین کی رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرناانتہائی درجہ نامناسب طرزعمل ہے اور شریف خاندانوں میں اس طرح چھپ کر نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور والدین کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات اس قسم کے نکاح کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے ، اورعموماً اس طرح کے اقدام آگے چل کر مزید پریشانیوں کا سببب بھی بن جاتے ہیں، لہذا سائل اورمذکورلڑکی کوچاہیے کہ اپنے والدین کواعتمادمیں لیکران کی رضامندی اور دعاؤں کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی شروع کریں ،تاکہ مستقبل کی پریشانیوں بچاجاسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافي «سنن الترمذي» : عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعلنوا هذا النكاح، واجعلوه في المساجد، واضربوا عليه بالدفوف(3/ 390)
وفي «البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» : (قوله نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي) ؛ لأنها تصرفت في خالص حقها وهي من أهله لكونها عاقلة بالغة ولهذا كان لها التصرف في المال ولها اختيار الأزواج، وإنما يطالب الولي بالتزويج كي لا تنسب إلى الوقاحة ولذا كان المستحب في حقها تفويض الأمر إليه والأصل هنا أن كل من يجوز تصرفه في ماله بولاية نفسه يجوز نكاحه على نفسه وكل من لا يجوز تصرفه في ماله بولاية نفسه لا يجوز نكاحه على نفسه، ويدل عليه قوله تعالى {حتى تنكح} [البقرة: 230] أضاف النكاح إليها ومن السنة حديث مسلم «الأيم أحق بنفسها من وليها» وهي من لا زوج لها بكرا كانت أو ثيبا، فأفاد أن فيه حقين حقه وهو مباشرته عقد النكاح برضاها، وقد جعلها أحق منه ولن تكون أحق إلا إذا زوجت نفسها بغير رضاه۔(3/ 117)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96172کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات