مصارف زکوۃ و صدقات

مقروض شخص کو قرض کی رقم مستحق زکوۃ کو دینے کا وکیل بنانا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
96183
| تاریخ :
2026-06-08
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

مقروض شخص کو قرض کی رقم مستحق زکوۃ کو دینے کا وکیل بنانا جائز ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا ایک زکوٰۃ سے متعلق سوال ہے۔میں ہر ماہ تین مستحق خاندانوں کو دواؤں کے لیے 2,000 روپے فی خاندان دیتی ہوں، یعنی کل 6,000 روپے ماہانہ زکوٰۃ ادا کرتی ہوں۔اب ایک رشتہ دار مجھ سے 60,000 روپے قرض مانگ رہے ہیں۔ میری تجویز یہ ہے کہ میں انہیں 60,000 روپے بطور قرض دے دوں، اور وہ اسی رقم میں سے ہر ماہ میری طرف سے ان تین مستحق خاندانوں کو 6,000 روپے دیتے رہیں۔اس صورت میں:کیا یہ طریقہ شرعاً درست ہے؟کیا ان 60,000 روپے میں سے مستحق خاندانوں کو دی جانے والی رقم میری زکوٰۃ شمار ہوگی؟قرض دیتے وقت مجھے کیا نیت کرنی چاہیے؟اگر 60,000 روپے ختم ہو جائیں تو کیا وہ شخص بعد میں بھی میری طرف سے زکوٰۃ تقسیم کر سکتا ہے؟قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائلہ مقروض شخص کو اس بات کا وکیل بنادیں کہ وہ اس رقم کو لوٹانے کے بجائے ، ان مستحقین کودوائیوں کی مد میں سائلہ کی طرف سے باقاعدہ انھیں مالک بنا کر دیتا رہے، تو شرعا ایسا کرنا درست ہے ، اور وہ جس قدر رقم کی دوائیاں لے کر ان مستحقین کے حوالے کردے گا ، اسی قدر زکوۃ سائلہ کی جانب سے شرعا ادا ہوجائے گی، اور سائلہ کی دی ہوئی مکمل رقم مبلغ ساٹھ ہزار( 60000) روپے مستحق زکوۃ لوگوں کے حوالہ کرنے کے بعد سائلہ کا قرض مکمل ہوجانے کے ساتھ توکیل کا معاملہ بھی ختم ہوجائے گا، جبکہ اس رقم کے ختم ہونے کے بعد سائلہ کا اس شخص کو مزید رقم کی بھی دوائیاں لے کر مستحقین کو بطور زکوۃ اس کی جانب سے دینے کا کہہ دے ، اور وہ دوائیاں لے کر ان کو دیدے ، تو ایسا کرنے سے بھی سائلہ کی زکوۃ ادا ہوگی ، مگر اس پر اس قدر رقم وکیل یعنی اس شخص کو اس کے مطالبہ پر دینی لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: «إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز.» اھ( الباب الاول فى تفسير الزكوة، ج:1، ص:171،ناشر:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96183کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات