السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک پیچیدہ مسئلے میں رہنمائی درکار ہے، براہِ کرم سوال کو اچھی طرح سمجھ کر جواب عنایت فرمائیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ایک لڑکی کے ایک مرد کے ساتھ تعلقات تھے۔ اس لڑکی نے اس مرد کو قرض کی مد میں لاکھوں روپے دیے ہوئے تھے، اور ان دونوں کے درمیان ناجائز جنسی تعلقات بھی قائم رہے تھے۔اب اس لڑکی کی شادی کسی دوسرے شخص سے ہو چکی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا وہ لڑکی اپنی واجب الادا زکوٰۃ اپنے سابق بوائے فرینڈ کو دے سکتی ہے، اور پھر وہ شخص اسی زکوٰۃ کی رقم سے اپنا قرض واپس کر دے؟ یعنی صورت یہ ہو کہ لڑکی اپنی زکوٰۃ اس شخص کو دے، اور وہ شخص اس رقم کا مالک بننے کے بعد اپنے ذمے موجود قرض کی رقم لڑکی کو واپس ادا کر دے۔اس معاملے میں ایک اشکال یہ ہے کہ اس لڑکی اور اس شخص کے درمیان نکاح کے بغیر میاں بیوی جیسے ناجائز تعلقات بھی رہے ہیں۔
لہٰذا رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہو جائے گی یا یہ عمل ناجائز اور حرام شمار ہوگا، کیونکہ ان کے درمیان پہلے ناجائز جنسی تعلقات موجود رہے ہیں؟براہِ کرم سوال کو اچھی طرح سمجھ کر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ گزشتہ مرتبہ بھی میں نے یہی سوال کیا تھا، لیکن صرف زکوٰۃ کا عمومی حکم بیان کرکے اصل مسئلے کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔
واضح ہو کہ کسی غیرمحرم لڑکے و لڑکی کا آپس میں ناجائز و جنسی تعلقات قا ئم کرنا ناجائز و حرام ہے ، جس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں ، جس پر ان دونوں کو بصدق دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے آئندہ ان تعلقات سے اجتناب لاز م ہے، لیکن اس تعلق کے بعد بھی وہ بدستور چونکہ اجنبی ہیں، اس لیے اگر اس لڑکی کا اس اجنبی لڑکے پر قرض ہو ، اور وہ قرض کی ادائیگی پر قادر نہ ہو اور مستحق زکوۃ بھی ہو، تو اس لڑکی کو چاہیئے کہ وہ کسی شخص کو اپنی زکوۃ کی ادائیگی کا وکیل بنادے اور وہ اس کی جانب سے قرض کے بقدر یا کم و بیش جتنی رقم زکوۃ کی مد میں دینا چاہے وہ اس اجنبی لڑکے کو دے کر اسے اس کا مالک بنادے ، پھر وہ لڑکا اس رقم سے لڑکی کا قرض لو ٹا دے، تو اس سے ادا کردہ رقم کے بقدر اس لڑکی کی زکوۃ ادا ہوجائے گی ، اور اس لڑکے کا قرض ادا ہوجائے گا۔
کما فی الدر المختار: واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين، وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض «لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه، فإن مانعه رفعه للقاضي، وحيلة التكفين بها التصدق على فقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما وكذا في تعمير المسجد، وتمامه في حيل الأشباه اھ ( کتاب الزکوۃ ج:2 ص:271 ناشر: حلبی)