جب رمضان المبارک میں تراویح میں ختمِ قرآن کیا جاتا ہے، تو اخیر میں مٹھائی یا اور کھانے کی کوئی چیز تقسیم کی جاتی ہے، اس فعل کو باقاعدگی کے ساتھ کیا جاتا ہے، کیا یہ سب جائز ہے؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں !
اگر کبھی اظہارِ مسرت وتشکر کی غرض سے اس طرح مٹھائی تقسیم کردی جائے تو شرعاً اس میں حرج بھی نہیں، تاہم اگر اسے لازم وملزوم اور ختمِ قرآن کا مستقل ایک حصہ سمجھا جانے لگے، مٹھائی تقسیم نہ ہو تو ختم کو ناقص قرار دیا جائے، اور خاص اس موقع پر تقسیم کو زیادہ اجر وثواب کا درجہ دیا جانے لگے، تو ایسی صورت میں یہ عمل بلاشبہ بدعت کی شکل اختیار کرلے گا، اور اس سے احتراز بھی لازم ہوجائے گا۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1