کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا بڑا بھائی اپنے بیٹے کی منگنی کے لیے آیا تھا، جس کی منگنی میری بیٹی سے ہونی تھی۔ ہم نے حقِ مہر مؤجل چھ (6) تولہ سونا مقرر کر دیا، تو لڑکے نے فون پر جواب میں کہا کہ 'میں نے قبول کر لیا' اور گواہان بھی موجود تھے۔ تو کیا یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں؟
نوٹ: اصل الفاظ یہ تھے: میں نے بھتیجے سے کہا کہ 'ہم نے آپ کی منگنی کے سلسلے میں چھ تولہ سونا مقرر کیا ہے، آپ کو شادی کے بعد یہ چھ تولہ سونا مہر قبول ہے؟' اس نے کہا: 'جی ہاں، قبول ہے'۔ معلوم کرنا ہے کہ کیا اس طرح نکاح ہو گیا ہے یا نہیں؟ تفصیل سے جواب تحریر فرما دیں۔"
صورتِ مسئولہ میں اولاً تو مذکورہ مجلس نکاح کی نہیں تھی بلکہ منگنی (جو کہ نکاح نہیں بلکہ وعدہٴ نکاح شمار ہوتی ہے) کی مجلس تھی اور بقول سائل، لڑکے سے فون پر محض حق مہر سے متعلق بات ہوئی تھی کہ یہ مہر قبول اور منظور ہے یا نہیں؟ جس کے جواب میں اس نے 'قبول ہے' کہا یعنی مذکورہ مہر مجھے منظور ہے۔ تو ایسی صورت میں چونکہ باقاعدہ نکاح اور ایجاب و قبول نہیں ہوا، نیز سارا مکالمہ موبائل فون پر ہوا، اس لیے سائل کی بیٹی اور بھتیجے کا آپس میں نکاح بھی منعقد نہیں ہوا۔ البتہ منگنی ایک وعدہٴ نکاح ہے اور بلا ضرورتِ شرعیہ وعدہ سے انحراف گناہ ہے جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع:وأما ركن النكاح فهو الإيجاب والقبول.وذلك بألفاظ مخصوصة، أو ما يقوم مقام اللفظ، فيقع الكلام في هذا الفصل في أربعة مواضع أحدها: في بيان اللفظ الذي ينعقد النكاح به بحروفه - والثاني: في بيان صيغة ذلك اللفظ.اھ(کتاب النکاح،ج:2،ص:229،ط:دار الکتب العلمیہ)
و فی بدائع الصنائع:ويجوز النكاح بدون المهر حتى إن من تزوج امرأة، ولم يسم لها مهرا بأن سكت عن ذكر المهر أو تزوجها على أن لا مهر لها ورضيت المرأة بذلك يجب مهر المثل بنفس العقد عندنا حتى يثبت لها ولاية المطالبة بالتسليم.اھ(فصل المھر،ج:2،ص:274،ط:دار الکتب العلمیۃ)