نکاح

حلالہ کے بعد بیوی سے کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
96639
| تاریخ :
2026-06-20
معاملات / احکام نکاح / نکاح

حلالہ کے بعد بیوی سے کئے ہوئے نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جب میری بیوی کے پیٹ میں پانچ (5) ماہ کا بچہ تھا تو میں نے اسکو طلاق دی۔ طلاق کے بعد وہ اپنے گھر واپس نہیں جا رہی تھی، تو میں نے ہمارے علاقہ کے مسجد کے مفتی صاحب سے رجوع کیا ،انہوں نے کہا کہ تمہاری طلاق واقع ہو چکی ہے،لہذا اب اس لڑکی کو اپنے گھر بھیج دو ،اگر وہ نہیں جارہی ہے تو اس کو الگ کمرے میں شفٹ کردو ، تو ہم نے اس لڑکی کو علیحدہ کمرہ میں شفٹ کر دیا اور میں نے اس سے علیحدہ رہنا شروع کر دیا۔ پھر جب میری بیٹی پیدا ہوئی اور اس لڑکی کی عدت پوری ہوئی تو ہم نے اس کو اپنے گھر جانے کا کہا ،تو لڑکی نے کہا کہ میں اب اپنے والدین کے گھر نہیں جاؤں گی وہاں پر میرا والد چرس پی کر پڑا رہتا ہے اور میری والدہ بھی اب اس گھر میں نہیں ہے وہ بھی میرے والد سے طلاق لے کر جا چکی ہے تو میں اس گھر میں نہیں جاؤں گی۔ اور میں بھی اس کے والد کو تین چار دن کال کرتا رہا لیکن اس کے والد نے کوئی جواب نہیں دیا میرے کال کا اور نہ اس نے فون اٹھا یا میرا . پھر میں مفتی صاحب کے پاس گیا ان کو سارا مسئلہ بتایا تواس نے کہا کہ بغیر نکاح کے تو تم اس کو نہیں رکھ سکتے ۔ پھر میں نے اپنے ابو سے ساری بات کی، تو میرے بھائی نے کہا کہ اگر وہ اپنے والدین کے گھر نہیں جا رہی تو میں اس سے نکاح کر لیتا ہوں پھر میرے ابو نے لڑکی سے پوچھا تو لڑکی نے کہا کہ ٹھیک ہے، پھر ہم مفتی صاحب کے پاس گئے اور . مفتی صاحب سے پوچھا تو مفتی صاحب نے کہا کہ اب وہ تمھارے سے آزاد ہے وہ لڑکی کسی سے بھی نکاح کر سکتی ہے. اگر تمھارے بھائی سے کرتی ہے تو تم لوگ اس لڑکی کو نکاح کے بعد اس گھر میں نہیں رکھ سکتے جس گھر میں تم اس کو شادی کرکے لائے تھے ،تو ہم نے مفتی صاحب سے کہا کہ ہم اسکو اوپر والے فلور پر شفٹ کر دیتے ہے تو مفتی صاحب نے بولا کہ ہاں اوپر والے فلور پر شفٹ کر دو تو ہم نے نکاح کر کے اسے اوپر والے فلور پر شفٹ کر دیا . اور یہ سب لڑکی کی رضامندی سے ہوا ،نکاح کے بعد اس لڑکی نے میرے بھائی کیساتھ چار،پانچ (5.4)دن گزارنے کے بعد طلاق لے لی ، تو ہم نے اس لڑکی کو علحدہ کمرہ میں کر دیا . وہ لڑکی نیچے گھر میں رہتی تھی ،اور ہم سب اوپر والے فلور پر شفٹ ہو گئے ، جب لڑکی کی عدت پوری ہوئی تو میں نے اس لڑکی سے اپنی بیٹی کی خاطر نکاح کر لیا . پھر میں اور وہ لڑکی ہم نیچے والے گھر میں اور میرے گھر والے سب اوپر والے گھر میں رہنے لگ گئے ۔اب پو چھنا یہ ہے کہ یہ سب کچھ میں نے مفتی صاحب سے پوچھ کر کیا اور لڑکی کی رضا مندی سے کیا اب اس لڑکی سے ٹوٹل میرے 5 بچے ہے کیا میرے بچے حرام کے ہے؟ کیونکہ میری بیوی نے کسی مولوی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ آپ کا پہلا بچہ ٹھیک ہے باقی چار حرام کے ہے ۔ اور اس سارے مسئلے میں میں نے شریعت سے ہٹ کر تو کوئی کام نہیں کیا ۔ اور نہ ہی کسی کو نکاح اور طلاق کیلئے مجبور کیا ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور مولوی صاحب نے سائل کی بیوی سے اس کے چار بچوں کو حرام قرار دینے کی کوئی وجہ تو ذکر نہیں کی ہے تاکہ اس سے متعلق بھی رہنمائی کی جاتی ،تاہم سائل کا سوال اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی بیوی نے پہلی طلاقوں کی عدت گزار کر باقاعدہ اپنے دیور یعنی سائل کے بھائی سے نکاح کر لیا ہو،اور اس نکاح کے نتیجے میں ان کے درمیان حق زوجیت کا تعلق بھی قائم ہوچکا ہو،جس کے بعد سائل کے بھائی نے اسے طلاق دیدی ہو،جس کی عدت گزارنے کے بعد سائل نے دوبارہ گواہان کی موجودگی میں اس سے نکاح کر لیا ہو،تو شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہوچکا تھا،اور میاں بیوی کا اتنا عرصہ ساتھ رہنا بھی درست ہوا ہے،لہذا اس دوران پیدا ہونے والے بچوں کا نسب بھی سائل سے ہی ثابت ہوگا ،اس لیے بلاوجہ شکوک وشبہات میں پڑنے سے احتراز چاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ»(سورة البقرة،رقم الاية:230)
و فی الھندیة: وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (كتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة،ج: 1،ص: 473،مط: دار الفکر)
و فی الدر: (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ،كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، وما في المشكلات باطل، أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله اھ(ج: 3،ص: 410،مط: دار الفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96639کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات