نکاح

والد کا بیٹے کو بارہ سال بڑی لڑکی سے شادی کرنے پر مجبور کرنا

فتوی نمبر :
96803
| تاریخ :
2026-06-25
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والد کا بیٹے کو بارہ سال بڑی لڑکی سے شادی کرنے پر مجبور کرنا

السلام علیکم ،
حضرت میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے ذہن میں کوئی جگہ ہے کہ ہم وہاں آپکی منگنی کی بات کریں، تو میں نے ایک جگہ بتائی والد صاحب نے ناپسند کیا، تو میں نے بھی ضد نہیں کی اور خاموش ہو گیا، پھر اب میرے والد مجھ پر زبردستی کررہے ہیں کہ اسکی بھانجی ہے اس کو مانو ،کیونکہ میری بہن نے مجھے کہا ہے کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو آپکی دامن میں پہینکاہے اور اسکی جو بیٹی میرے لیے اسکی ماں اور میرے والد پسند کررہے ہیں، وہ لڑکی مجھ سے گیارہ یا بارہ سال بڑی بھی ہے، میری عمر اکیس سال جبکہ اس کی عمر بتیس یا تینتیس سال ہے اور مجھے بلکل نا پسند ہے ،وہ لڑکی اور میں نے جس لڑکی کا کہا تھا وہ میرے ماموں کی بیٹی ہے، میرے والد نے بہانہ کہ وہ اپنی عورتوں کے وقت برباد کرتے ہیں یعنی میرے ماموں کی بیوی اپنے والد کے گھر پندرہ سال بیٹھی ہوئی تھی اور میرے ماموں کی بیٹیاں بھی اسی کے ساتھ تھی، اس وجہ سے میرے والد یہ کہ رہے ہیں، لیکن اسکے نانا کا تو اس رشتے میں کوئی دخل نہیں، کیونکہ بیٹی تو میرے ماموں کی ہے، اور بات بھی اسی طرح ہے، کیونکہ ہم پٹھان ہیں، اب میرے والد مجھ سے بات نہیں کررہے، لہٰذا آپ مختصر الفاظ میں کوئی مشورہ دے دے مہربانی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں جب سائل کے والد کے معلوم کرنے پر اپنی پسند (ماموں کی بیٹی سے نکاح) بتادی تھی جس پر انہوں نے اس رشتہ سے منع کر دیا تو سائل کا والد کے احترام میں خاموش رہنا مناسب تھا، لیکن اب سائل کے والد کا اپنی بھانجی (جو بقول سائل کے عمر میں اس سے دس گىاره سال بڑی ہے) کے ساتھ اسے رشتہ کرنے پر مجبور کرنا مناسب نہیں، بلکہ اسے اپنے بیٹے کی پسند اور ناپسند کا بھی خیال رکھنا چاہیے، اور اس سلسلہ میں اگر سائل کے لیے واقعۃً یہ رشتہ پیار و محبت کے ساتھ برقرار رکھنا مشکل ہو ،تو کسی لڑکی کی زندگی کو مشکل میں ڈالنے کے بجائے ابھى اس رشتہ سے انکار کرنا مناسب ہے، اور والد كو بھى اس سلسلہ میں اپنے بیٹے کے جذبات اور خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى في القرآن الكريم: ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا﴾ [الإسراء: 23]
وفي تفسير ابن كثير: فقال: (وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا) أي: وأمر بالوالدين إحسانًا، كما قال في الآية الأخرى: {أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ} [لقمان: 14] وقوله: (إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ) أي: لا تسمعهما قولا سيئًا، حتى ولا التأفيف الذي هو أدنى مراتب القول السيئ (وَلا تَنْهَرْهُمَا) أي: ولا يصدر منك إليهما فعل قبيح، كما قال عطاء بن أبي رباح في قوله: (وَلا تَنْهَرْهُمَا) أي: لا تنفض(6) يدك على والديك، ولما نهاه عن القول القبيح والفعل القبيح، أمره بالقول الحسن والفعل الحسن فقال: (وَقُلْ لَهُمَا قَوْلا كَرِيمًا) أي: لينًا طيبًا حسنًا بتأدب وتوقير وتعظيم. [ج:5 ص:64 ط: دار طيبة - ت السلامة)]
وفي الدر المختار: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ اهـ
ورد المحتار تحت قوله: (ولا تجبر البالغة) ولا الحر البالغ والمكاتب والمكاتبة ولو صغيرين ح عن القهستاني اهـ [كتاب النكاح، باب الولي، ج:3 ص:58 سعيد)]
وفي الدر أيضاً: (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) اهـ
وفي الشامية تحت قوله: (في غير الكفء) أي في تزويجها نفسها من غير كفء، وكذا له الاعتراض في تزويجها نفسها بأقل من مهر مثلها، حتى يتم مهر المثل أو يفرق القاضي اهـ [كتاب النكاح، باب الولي، ج:3 ص:56 ط: سعيد)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96803کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات