نکاح

دوسری شادی کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
97185
| تاریخ :
2026-07-06
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دوسری شادی کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !حضرت! مجھے ایک اہم معاملے میں شرعی رہنمائی درکار ہے، میں شادی شدہ ہوں، میری بیوی مجھ سے محبت کرتی ہے، لیکن اگر میں دوسری شادی کروں تو وہ اسے بےوفائی سمجھتی ہے اور کہتی ہے کہ اس سے مجھے بہت شدید ذہنی اور جذباتی تکلیف ہوگی، دوسری طرف میرے دل میں کسی دوسری خاتون کے لیے بھی جذبات پیدا ہوئے تھے، میں جاننا چاہتا ہوں کہ ایسے حالات میں میرے لیے شرعاً اور اخلاقاً بہتر راستہ کیا ہے؟ کیا صرف اس وجہ سے کہ میری پہلی بیوی کو شدید صدمہ پہنچے گا اور وہ اسے بےوفائی سمجھے گی، میرے لیے دوسری شادی سے رک جانا بہتر ہے؟ یا اگر میں دونوں کے حقوق اور انصاف ادا کر سکوں تو دوسری شادی کرنا جائز اور درست ہوگا؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق فیصلہ کر سکوں، جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اگر دونوں بیویوں کے حقوق(نان و نفقہ اور شب باشی وغیرہ ) برابری کے ساتھ ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو شرعاً دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت ضروری نہیں، بلکہ بیوی کی اجازت کے بغیر بھی سائل کے لیے دوسری شادی کرنا جائز ہوگا ، تاہم بہتر یہ ہے کہ پہلی بیوی کو رضامند کرکے دوسری شادی کریں، تاکہ آئندہ کی زندگی میں سکون اور اطمینان ملے،اور دوسری شادی کامقصدپوری طرح حاصل ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (سورۃ النساء ایۃ 3)۔
وفی الدر المختار: (يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب.الخ (3/201)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: فإن تيقنه) أي تيقن الجور حرم؛ لأن النكاح إنما شرع لمصلحة تحصين النفس، وتحصيل الثواب، وبالجور يأثم ويرتكب المحرمات فتنعدم المصالح لرجحان هذه المفاسد بحر وترك الشارح قسما سادسا ذكره في البحر عن المجتبى وهو الإباحة إن خاف العجز عن الإيفاء بموجبه. اهـ. أي خوفا غير راجح، وإلا كان مكروها تحريما؛ لأن عدم الجور من مواجبه الخ (3/7)۔
و فی الھندیۃ : وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لا يعدل بينهما لا يسعه ذلك وإن كان لا يخاف وسعه ذلك والامتناع أولى ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية. والمستحب أن يسوي بينهن في جميع الاستمتاعات من الوطء والقبلة وكذا بين الجواري الخ (1/341)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97185کی تصدیق کریں
0     64
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات