نکاح

لڑکی کا غیر خاندان میں شادی کروانے پر بضد ہونا

فتوی نمبر :
97284
| تاریخ :
2026-07-09
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کا غیر خاندان میں شادی کروانے پر بضد ہونا

محترم مفتیانِ کرام دامت برکاتہم!
میری بیٹی ایک انجان بندے سے خفیہ رابطے میں تھی، جس کا مجھے کوئی علم نہیں تھا۔ اچانک یہ قصہ کھلا تو بیٹی نے اسی بندے کے ساتھ جلد بازی میں نکاح کرنے پر ضد شروع کر دی۔
1۔ جس بندے کے ساتھ نکاح کرنے کا کہہ رہی ہے، اسے ہمارے خاندان، دوستوں، حلقۂ احباب اور عزیز و اقارب میں سے کوئی جانتا تک نہیں۔ وہ دوسری کمیونٹی اور دوسرے شہر سے ہے۔ جس برادری سے وہ بندہ تعلق رکھتا ہے، اس برادری میں ہماری کمیونٹی کا کبھی کسی فرد کا کوئی تعلق نہیں رہا۔
2۔ جب ہم نے اس بندے کے بارے میں تحقیق اور معلومات لینے کی کوشش شروع کی تو لڑکی اور بیوی مختلف طریقوں سے پریشان کرنے لگیں۔ دونوں ماں بیٹی کا کہنا ہے کہ بس جلدی نکاح کرو، کوئی تحقیق نہیں ہوگی۔
3۔ ماحول اور برادری بالکل اجنبی ہونے کی وجہ سے اس بندے کے بارے میں کوئی مستند معلومات بھی نہیں مل رہی۔
4۔ ان حالات میں باپ زبردستی والے نکاح میں ولی کی حیثیت سے نکاح میں بیٹھنے کو تیار نہیں۔ اس کا موقف ہے کہ پہلے مکمل تحقیق کرواؤں گا۔ اگر بندہ نیک ہوگا، اچھا ہوگا اور خاندانی حسب و نسب والا ہوگا تو نکاح میں ولی کی حیثیت سے بیٹھوں گا۔ اندھا اعتبار نہیں کرسکتا۔ جذبات اور اعتبار الگ راستے ہیں۔ کسی غیر شخص پر تحقیق مکمل کیے بغیر اعتبار کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے برابر سمجھتا ہوں۔
5۔ والد کا یہ بھی اصرار ہے کہ اپنی برادری، تعلق داری اور خاندان میں مناسب اور اچھا رشتہ تلاش کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ ایک اجنبی کے پیچھے ذلیل ہوں، جس کی کوئی اچھائی یا شناخت معلوم کرنے کا راستہ بھی نہیں مل رہا۔ نئے ماحول میں کوئی صحیح معلومات بھی نہیں دیتا۔
6۔ ان حالات میں مجھے مکمل شرعی رہنمائی اور مفتیانِ کرام سے شرعی فتویٰ درکار ہے کہ باپ کی جو شرعی حیثیت بنتی ہے، وہ اسے کس طرح ادا کرے اور بیٹی کو کسی غلط فیصلے سے کیسے بچائے؟
7۔ کیا اکیلی بیوی اور بھائی شرعی ولی کو نظر انداز کرکے نکاح کرا سکتے ہیں؟ اگر ضد میں یہ کام ہو جائے تو اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ دین، دنیا اور آخرت کے اعتبار سے اس کا کیا حکم ہوگا؟
8۔ اولاد پر باپ کا کتنا فرض ہے اور اولاد پر باپ کی فرمانبرداری کا شرعی کیا حکم ہے؟
9۔ دین اور شریعت میں اگر کسی غیر سے رشتہ ہو، جبکہ اپنے خون، رشتہ داروں یا برادری میں مناسب رشتہ بھی موجود ہو، تو شرعی طور پر پہلے کس رشتے کو ترجیح دینا بہتر ہے؟ کیا ایسے رشتے کو ترجیح دینا بہتر ہے جس سے خاندان بھی ٹوٹنے سے بچ جائے اور دنیاوی ذلت سے بھی بچا جا سکے؟
براہِ کرم مذکورہ تمام صورتِ حال کی روشنی میں قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کے مطابق مکمل اور واضح شرعی رہنمائی اور فتویٰ عنایت فرمائیں۔
والسلام۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو كہ نکاح کرتے وقت شریعت مطہرہ میں لڑکی کی پسند کو اہمیت دی گئی ہے، اور والدین کو بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے، تاکہ نکاح کے بعد میاں بیوی مىں ذہنی ہم آہنگی ہونے کی وجہ سے وه سکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں، لیکن اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ نے اولاد پر والدین کی اجازت ورضامندی اور ان کے تجربہ کو ملحوظ خاطر رکھنے کی بھی تاکید کی ہے، حتی کے بعض روایات مبارکہ میں ولی کی اجازت کے بغیر کئے گئے نکاح کو باطل قرار دیا گیاہے، نیز والدین کی اجازت کے بغیر کیا ہوا نکاح ان کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے عموما پائیدار بھی نہیں ہوتا، بلکہ خلع و علیحدگی پر منتج ہوتا ہے، اس لیئے سائل كى بىوى، بىٹے اور بىٹى کو چاہیےکہ اس سلسلہ میں جذبات سے کام لینے کے بجائے لڑكى كی پسند کے ساتھ ساتھ والد کی رضامندی کا بھی خیال رکھے، اور انہیں اعتماد میں لے کر اس رشتہ کو آگے بڑھانے کا اہتمام کرے، جبکہ والد کی موجودگی میں لڑکی کی والدہ اور بھائی کا والد کو اعتماد میں لئے بغیر کرایا گیا نکاح اگر غىر كفؤ (كہ لڑكا خاندانی شرافت اور مال وغیرہ میں لڑکی كا ہم پلہ اور برابری کا نہ ہو) مىں ہو، تو متأخرین احناف کے ہاں یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہ ہوگا، اس لیے دونوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے رویہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے محض باہمی رنجش اور ضدبازى کے بجائے لڑکی کی پسند کے ساتھ ساتھ اس کے بہتر مستقبل کا بھی خیال رکھے، اور باہمی مشورے ورضامندی سے بچی کا رشتہ کرنے کا اہتمام کرے، تاکہ اس کی وجہ سے رشتوں میں اختلافات اور رنجش پىدا نہ ہو ں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في القرآن الكريم: ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا﴾ [الإسراء: 23]
وفي سنن الترمذي: عن عائشة رضي الله عنها، أن رسول الله ﷺ قال: «أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل، فنكاحها باطل، فنكاحها باطل. [كتاب النكاح، باب ما جاء لا نكاح إلا بولي، رقم الحديث (1102) ج:3 ص:399 ط: مطبعة حلبي مصر)]
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (وعن أبي أمامة) أي: الباهلي - رضي الله تعالى عنه - ( «أن رجلا قال: يا رسول الله، ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: هما جنتك ونارك» ) أي: أسبابهما، والمعنى: أن حقهما رضاهما الموجب لدخول الجنة، وترك عقوقهما المقتضي لدخول النار، ولا ينحصر في حق دون حق على ما يفهم من السؤال، فالجواب له مطابقة مع المبالغة. قال الطيبي: الجواب من أسلوب الحكيم أي: حقهما البر والإحسان إليهما، وترك العقوق الموجبان لدخول الجنة وعدا، وترك الإحسان والعقوق الموجبان لدخول النار وعيدا فأوجز كما ترى، وقوله: جنتك ونارك على الخطاب العام ; لأن سؤاله عام، فيدخل فيه السائل دخولا أوليا. (رواه ابن ماجه). [كتاب الآداب، باب البر والصلة، ج:7 ص:3097 ط: دار الفكر بيروت)]
وفي الشامية: يستحب للمرأة ‌تفويض ‌أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة اهـ (كتاب النكاح، باب الولي، ج:3 ص:55 ط: سعيد)
وفي الدر المختار: ( الکفاءۃ معتبرۃ ) فی ابتداء النکاح للزومه أو لصحته (من جانبه) اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: ( الکفاءۃ معتبرۃ ) قالوا معناه معتبرۃ فی اللزوم علی الاولیاء حتی ان عند عدمھا جاز للولی الفسخ اھ فتح و ھذا بناء علی ظاھر الروایۃ من ان العقد صحیح ، و للولی الاعتراض ، اما علی روایۃ الحسن المختار للفتوی من انہ لا یصح (كتاب النكاح، باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 74، ط: سعید )
وفي الدر المختار أيضاً: (ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده بحر. (إلى قوله) (قوله وهو المختار للفتوى) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط كذا في تصحيح العلامة قاسم لأنه ليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ولا كل قاض يعدل، ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة للتردد على أبواب الحكام، واستثقالا لنفس الخصومات فيتقرر الضرر فكان منعه دفعا له فتح اهـ [كتاب النكاح، باب الولى، ج:3 ص:57 ط: سعيد)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97284کی تصدیق کریں
1     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات