نکاح

ونی کی رسم کا حکم

فتوی نمبر :
97372
| تاریخ :
2026-07-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ونی کی رسم کا حکم

کیا فرماتےہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گزشتہ زمانے میں جو ایک "ونی" کی رسم ہوتی تھی کہ اگر کوئی آدمی کسی خاندان کے فرد کو قتل کردے یا کوئی اور جرم ہو تو متاثرہ خاندان یا جرگہ والے مجرم پر یہ فیصلہ عائد کردیتے ہیں کہ مجرم کی بیٹی متاثرہ خاندان کے کسی فرد کو دی جائے، تو اس فیصلہ کا شرعی طور پر کیا حکم ہے؟کیا مجرم پر متاثرہ خاندان کو بیٹی دینا ضروری ہے؟یا وہ انکار کرسکتا ہے، اسی طرح اگر مجرم کی علاوہ کوئی اور فرد معاملہ کو ختم کرنے کیلئے اپنی بیٹی متاثرہ خاندان کو دیدے تو وہ ایسا کرسکتاہے یانہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی آزاد بچی کو بدل صلح کے طور پر لڑکی کی اجازت و رضامندی اور مہر کے تقرر کے بغیر دوسرے فریق کے کسی فرد سے نکاح کراناعرف میں "ونی"اور"سوارا" کی رسم کہلاتاہے، جوکہ شرعاً جائز نہیں ہے اور مجرم کے خاندان کو اس پر مجبور کرنا بھی شرعاً جائز نہیں،کیونکہ آزاد انسان مال نہیں ہے،جبکہ بدل صلح کا مال ہونا ضروری ہے، اس لئے اس رسم سے اجتناب کرنالازم ہے،تاہم اگر مجرم یا اس کے علاوہ کوئی اور فرد لڑائی ختم کرنے کیلئے اپنی بیٹی دوسرے فریق کے کسی فرد کو لڑکی کی اجازت اور رضامندی کے ساتھ حق مہر طے کرکے نکاح میں دیدے تو شرعاً جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البدائع: وأما الشرائط التي ترجع إلى المصالح عليه.فأنواع: (منها) أن يكون مالا فلا يصح الصلح على الخمر والميتة والدم وصيد الإحرام والحرم وكل ما ليس بمال؛ لأن في الصلح معنى المعاوضة فما لا يصلح عوضا في البياعات لا يصلح بدل الصلح، وكذا إذا صالح على عبد، فإذا هو حر لا يصح الصلح،الخ (کتاب الصلح،فصل في الشرائط التي ترجع إلى المصالح عليه]ج:6،ص:42،ط:دارالکتب العلمیہ)
وفی الرد: ثم عرف المهر في العناية بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد،الخ (کتاب النکاح، باب المھر،ج:3،ص:101،ط:سعید)
وفی الدر: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ الخ،(کتاب النکاح،باب الولی،ج:3،ص:58،ط؛سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97372کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات