کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ میں کہ میری بہن کے شوہر نے میری بیٹی سے کورٹ میرج کیا ہے ۔ جبکہ میری بہن ان کے نکاح میں ہے، جو کہ اس وقت بھی حاملہ ہے ، مطلب یہ کہ بچی کی پھوپھی اس کے نکاح میں ہے، تو کیا اپنی بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی سگی بھتیجی کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ پھوپھی بھتیجی دونوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا شرعاً جائز نہیں ،چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر یہ دوسرا نکاح شرعی مسئلہ سے لاعلمی میں کیاگیا ہو تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوا، بلکہ یہ نکاح فاسد ہے، لہذا شوہر پر لازم ہے کہ الفاظ متارکت کہہ کر دوسری بیوی کو علیحدہ کردے،تاکہ وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو،نیز دوسری بیوی کےساتھ اگر صحبت کرلی ہو تو ایسی صورت میں عدت بھی لازم ہوگی اور مہر مثل اور طے شدہ حق مہر میں سے جو بھی کم ہو وہ لازم ہوگا،اسی طرح جب تک دوسری بیوی کی عدت ختم نہ ہوجائے تو شوہر کیلئے پہلی بیوی کیساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے کی بھی اجازت نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا(النساء ایۃ :43)
و فی الہندیۃ: والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط. فلا يجوز الجمع بين امرأة وعمتها نسبا أو رضاعا، وخالتها كذلك ونحوها، الخ(کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،ج:1،ص:271،ط:ماجدیہ)
وفیہا ایضا: وإن تزوجهما في عقدتين فنكاح الأخيرة فاسد ويجب عليه أن يفارقها ولو علم القاضي بذلك يفرق بينهما فإن فارقها قبل الدخول؛ لا يثبت شيء من الأحكام وإن فارقها بعد الدخول فلها المهر ويجب الأقل من المسمى ومن مهر المثل، وعليها العدة ويثبت النسب ويعتزل عن امرأته حتى تنقضي عدة أختها، كذا في محيط السرخسي.
وفی الشامیۃ: في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق،(کتاب النکاح:باب المہر،مطلب فی النکاح الفاسد،ج:3، ص:133،ط:سعید)