نکاح

عدت میں کئے ہوئے نکاح سے حلالہ ہوجاتا ہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
97560
| تاریخ :
2026-07-17
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عدت میں کئے ہوئے نکاح سے حلالہ ہوجاتا ہے یا نہیں؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میرا سوال نکاح، طلاق اور عدت سے متعلق ہے۔میری شادی کو بائیس (22) سال ہو چکے تھے۔ تقریباً دو سال پہلے میرے پہلے شوہر نے مجھے قانونی طور پر بھی طلاق دی اور پانچ آدمیوں کے سامنے زبانی طور پر بھی تین مرتبہ کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔"اس کے بعد میں نے اس کی عدت مکمل نہیں کی۔ پہلی طلاق کے بعد مجھے صرف ایک مرتبہ حیض آیا، اس کے بعد دوبارہ حیض نہیں آیا۔تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد میں نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا۔ میری اس کے ساتھ رخصتی بھی ہوئی اور میں تقریباً ڈیڑھ ماہ اس کے ساتھ رہی۔بعد میں میں نے اس سے طلاق کا مطالبہ کیا، پھر اس نے بھی مجھے قانونی طور پر اور پانچ آدمیوں کے سامنے زبانی طور پر تین طلاقیں دیں۔اس کے بعد میں نے دوسرے شوہر کی عدت بھی مکمل نہیں کی، بلکہ تقریباً چار ماہ بعد میرا دوبارہ پہلے شوہر سے نکاح ہو گیا۔اب میرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ تمام صورتِ حال کی روشنی میں میرا موجودہ نکاح پہلے شوہر کے ساتھ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ نیز پہلی اور دوسری دونوں عدتیں مکمل نہ کرنے کی وجہ سے میرے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں تحریری فتویٰ مرحمت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کو تین طلاقیں ہو جانے کے بعد اس نے جب دورانِ عدت دوسرے شخص سے نکاح کیا تو اس کا یہ نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوا، اور اس کے بعد دوسرے شخص کے ساتھ رہنے اور ہمبستر ہونے سے وہ زوجِ اول کے لئے حلال نہیں ہوئی۔ اس لئے سائلہ پر لازم ہے کہ فی الفور زوجِ ثانی سے علیحدگی اختیار کرے ورنہ حرام کاری کے مرتکب ہونے کی بنا پر سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ سائلہ کا عدت مکمل ہونے سے قبل کسی دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرنا بھی ناجائز اور حرام عمل تھا جس پر سائلہ کو بصدقِ دل توبہ اور استغفار لازم ہے۔ اور زوجِ اول (جس نے تین طلاقیں دی تھیں) کے ساتھ دوبارہ ازدواجی تعلق بنانے کے لئے حلالۂ شرعیہ لازم اور ضروری ہے، اس کے بغیر اس کے ساتھ رہنا قطعاً جائز نہیں۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدت طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے، ایسا کرنے سے دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فورا بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة،كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع. الخ (کتاب النکاح، ج: 1، ص :280، ط: ماجدیہ )۔
وفی البحر الرائق: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير؛ لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونه زنا كما في القنية وغيرها الخ (کتاب الطلاق، ج: 4،ص: 156،ط: دار الکتاب)
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ومنها أن يكون النكاح الثاني صحيحا حتى لو تزوجت رجلا نكاحا فاسدا ودخل بها لا تحل للأول؛ لأن النكاح الفاسد ليس بنكاح حقيقة، ومطلق النكاح ينصرف إلى ما هو نكاح حقيقة ولو كان النكاح الثاني مختلفا في فساده، ودخل بها لا تحل للأول عند من يقول بفساده لما قلنا، فإن تزوجت بزوج آخر ومن نيتها التحليل فإن لم يشرطا ذلك بالقول، وإنما نويا، ودخل بها على هذه النية حلت للأول في قولهم جميعا؛ لأن مجرد النية في المعاملات غير معتبر فوقع النكاح صحيحا لاستجماع شرائط الصحة فتحل للأول كما لو نويا التوقيت، وسائر المعاني المفسد الخ(فصل فیی حکم الطلاق البائن،ج:3،ص:187،ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97560کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات