شادی کے تقریباً ڈیڑھ سال سے میاں بیوی میں تعلق قائم نہیں ہوا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ بیوی کو بہت دیر سے حمل ٹھہرا تھا، تو یہ سوچ تھی کہ بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ پھر 9 مہینے پہلے بچہ ہوا تو اس کے بعد کوئی تعلق قائم نہیں ہوا ہے، شوہر کے مصروف روٹین کی وجہ سے (شوہر روٹین کی وجہ سے بہت تھک جاتا ہے جس کی وجہ سے جلدی سو جاتا ہے) جب کہ بیوی بول بھی رہی ہے اور ساتھ بھی رہ رہے ہیں دونوں۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟وضاحت ہے کہ میاں بیوی میں دوستی بہت ہے، ایک ساتھ ایک کمرے میں رہتے ہیں۔
اگر میاں بیوی کو ہمبستری کرنے میں کوئی عذر شرعی(بیماری وغیرہ) مانع نہ ہو تو چار ماہ میں کم از کم ایک بار بیوی کا حق زوجیت ادا کرنا دیانۃً اور عند اللہ واجب ہے ،خصوصاً جب بیوی کی طرف سے اس کی طلب بھی ہو، لہذا شوہر پر لازم ہے کہ وقتاً فوقتاً بیوی کے مزاج اور اپنی نشاط کے مطابق اس حق کی ادائیگی کیا کرے ۔
کما في الدر المختار تحت:(قوله ويسقط حقها بمرة) قال في الفتح: واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له، صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة، لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة.ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به. اهـ. قال في النهر: في هذا الكلام تصريح بأن الجماع بعد المرة حقه لا حقها اهـ. قلت: فيه نظر بل هو حقه وحقها أيضا، لما علمت من أنه واجب ديانة.اهـ(باب القسم بين الزوجات،ج:3،ص:202،ط:سعید)
و فی فتح القدير:صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة لكنه لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة، ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به۰۰۰ اختار الطحاوي رواية الحسن عن أبي حنيفة أن لها يوما وليلة من كل أربع ليال وباقيها له؛اخ(باب القسم،ج:3،ص:435،ط:دار الفکر)