سوال: میرا خاندان سنی حنفی دیوبندی ہے، میری بہن شیعہ لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے، ہمیں لڑکا پسند ہے، لیکن مختلف فرقہ ہونے کی وجہ سے فیصلہ کرنے سے پہلے لڑکے سے اس کے عقائد معلوم کیے ہیں ، جوحسب ذیل ہیں :
حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں ۔
آج قرآن شریف مکمل اصلی حالت میں ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قابل احترام ہیں اور ان پر لگائی گئی تہمت با لکل غلط ہے۔
پہلے تین خلیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم قابل احترام ہیں ۔
حضورﷺ کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے امام ہیں ۔
یہ غلط ہے کہ امام کو فرشتے کے ذریعہ کوئی ہدایت آتی تھی۔
12 امام انبیاء کرام سے افضل نہیں ہیں ۔
آپ سے گزارش ہے مندرجہ بالا لڑکے کے عقائد کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس لڑکے سے بہن کا نکاح جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورشخص کے بیان کردہ عقائد میں یہ عقیدہ (حضورﷺ کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے امام ہیں ) اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کے خلاف ہے، نیز اس سوال میں اہل سنت والجماعت کے دیگر عقائد کا بھی ذکر نہیں ہے، تاہم درج بالاعقائد کادعوی رکھنےکے باوجود مذکور لڑکاکسی سنی لڑکی کاکفوء نہیں، چنانچہ سائل کے لیے بہتریہی ہے کہ اپنی بہن کےنکاح کےلیےمذکورلڑکےکے بجائےکسی صحیح العقیدہ، سنی مسلمان کوترجیح دے ؛ خصوصاً اس لیے بھی کہ اکثراوقات اس قسم کے اختلافات ازدواجی زندگی اور اولاد کی دینی تربیت میں شدید نزاع کا سبب بن جاتےہیں۔
کما فی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك،( باب: الأكفاء في الدين،ج: 5،ص: 1958،رقم الحدیث: 4802،مط: دار ابن کثیر)
وفی رد المحتار: وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة اھ( كتاب النكاح، فروع طلق امرأته تطليقتين،ج: 3،ص: 46،مط: دار الفکر بیروت)
و فی البدائع: ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن} (البقرة: 221)اھ (كتاب النكاح، ج: 2،ص: 270،مط: دار الکتب العلمیہ)
و فیه ایضاً: أن الأصل أن لا يجوز للمسلم أن ينكح الكافرة؛ لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لا يحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح اھ( كتاب النكاح،ج: 2،ص: 270،مط: دار الکتب العلمیہ)