السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا ایک سوال ہے۔ میری یونیورسٹی میں ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی تھی جس کی تقریباً دو سال پہلے طلاق ہو چکی تھی۔ اس وقت اس کی عمر 26 سال تھی اور میری عمر 18 سال تھی۔ ہم آہستہ آہستہ بات کرتے کرتے ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور میں نے اس سے یہ وعدہ کیا کہ میں دو سال بعد اس سے شادی کروں گا کیونکہ اس وقت میری مالی حالت ٹھیک نہیں تھی اور میرے پاس نوکری بھی نہیں تھی۔
اب میں 20 سال کا ہوں اور میں نے اپنے گھر والوں کو اس کے گھر رشتہ بھیج دیا ہے اور منگنی بھی ہو چکی ہے۔ دونوں خاندان شادی کے لیے راضی ہیں۔ لیکن حال ہی میں مجھے اس کے موبائل سے کچھ چیٹس ملیں جن سے پتہ چلا کہ تقریباً آٹھ ماہ پہلے اس نے ایک دفتر میں کام شروع کیا تھا جہاں اس کا ایک اور لڑکے کے ساتھ تعلق بن گیا تھا اور ان کے درمیان جسمانی تعلق بھی رہا۔ جب میں نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو پہلے اس نے بات چھپائی لیکن بعد میں اس نے اعتراف کیا اور کہا کہ اسے لگا تھا کہ میں عمر میں چھوٹا ہوں اور شاید سنجیدہ نہیں ہوں، اس لیے اس نے اس شخص کو ترجیح دی جو عمر میں بڑا تھا اور شادی کے قابل تھا۔ اب وہ اس پر نادم ہے، معافی بھی مانگ رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گی۔
اب میں شدید ذہنی پریشانی میں ہوں۔ ایک طرف اس کی معذرت، توبہ اور ندامت ہے اور دوسری طرف اس کی طرف سے اعتماد ٹوٹنے اور دھوکے کا احساس ہے۔ میں یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ کیا میں اس منگنی کو ختم کر دوں یا اللہ کی رضا کے لیے اسے قبول کر کے شادی کر لوں۔ میری فیملی بہت شریف اور باعزت ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس صورتحال میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں اس بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں کہ میرے لیے صحیح فیصلہ کیا ہوگا۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائل اور اس کی منگیتر کا نکاح سے قبل بے تکلفانہ بات چیت اور تعلقات رکھنا، اور پھر دفتر میں کام کرنے والے ایک اور لڑکے کے ساتھ تعلق قائم کرنا ناجائز عمل تھا۔ جس پر انہیں سچے دل سے توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے ایسے ناجائز کاموں سے بچنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا لازم ہے۔ چنانچہ اگر سائل کی منگیتر سچے دل سے توبہ ثابت ہو جائے اور سائل کو آئندہ کے لئے اس کے متعلق اطمینان ہو جائےتو سائل منگنی کے اس سلسلے کو برقرار رکھ کر اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کی توبہ ثابت نہ ہوتو ایسی صورت میں سائل کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے بڑوں کے مشورے سے اس منگنی کو ختم کر کے کسی دوسری جگہ نکاح کا اہتمام کرے۔
کما فی الھدایۃ: (وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية الخ ( کتاب النکاح، ج: 1،ص :267،ط: ماجدیہ )
وفی الدر المختار: (و) تعتبر في العرب والعجم (ديانة) أي تقوى فليس فاسق كفؤا لصالحة أو فاسقة بنت صالح معلنا كان أو لا الخ ( کتاب النکاح، ج :3،ص:88،ط: سعید)
و فی العناية :(وكذا إذا رأى امرأة تزني فتزوجها حل له أن يطأها قبل أن يستبرئها عندهما، وقال محمد: لا أحب له أن يطأها ما لم يستبرئها) والمعنى ما ذكرنا.(فروع في النظر إلى الفرج،ج:3،ص:246،ط:دار الفکر)