محترم مفتی صاحب دارالافتاء
السلام علیکم
عرض یہ ہے کہ میں شادی شدہ ہوں اور میری ایک بیوی ہے۔ اس کے بعدمیں نے ایک دوسری عورت سے بھی نکاح کیا ہے جو میری پہلی بیوی کی سوتیلی بہن ہے۔
وضاحت یہ ہے کہ میری پہلی بیوی اور دوسری بیوی کی والدہ ایک ہی ہیں، لیکن دونوں کے والد الگ الگ ہیں۔ یعنی دونوں ماں کی طرف سے بہنیں ہیں۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً کسی شخص کو اپنی موجودہ بیوی کی سگی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے، جس کی والدہ دونوں کی مشترک ہوں لیکن والد الگ الگ ہوں؟
اگر ایسا نکاح شرعاً جائز نہیں ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ اور اس صورت میں مجھ پر کیا لازم ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں میرے اس مسئلے کا واضح اور مکمل فتویٰ عنایت فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً
والسلام
واضح ہو کہ جس طرح دو حقیقی بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا نا جائز اور حرام ہے،اسی طرح بیک وقت دو ماں شریک بہنوں(یعنی اخیافی بہنوں ) کو نکاح میں رکھنا اور جمع کرنا نا جائز اور حرام ہے ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل پر لازم ہے کہ وہ فی الفور دوسری بیوی سے علیحدگی اختیار کرے، اور اپنی کی ہوئی غلطی پر توبہ و استغفار کرے۔ جبکہ دوسری بیوی کے ساتھ اگر سائل نے ہمبستری کی ہو تو سائل کے ذمہ اس کے حقِ مہر کی ادائیگی، نیز الگ ہونے کی صورت میں دوسری بیوی پر عدت گزارنا لازم ہے۔بصورتِ دیگر حقِ مہر کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی اور عدت گزارنے کے بغیر دوسری بیوی کسی اور جگہ شادی کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی الہندیۃ:(وأما الجمع بين ذوات الأرحام) فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع هكذا في السراج الوهاج. والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط. فلا يجوز الجمع بين امرأة وعمتها نسبا أو رضاعا، وخالتها كذلك ونحوها ويجوز بين امرأة وبنت زوجها فإن المرأة لو فرضت ذكرا حلت له تلك البنت بخلاف العكس، وكذا يجوز بين امرأة وجاريتها إذ عدم حل النكاح على ذلك الفرض ليس لقرابة أو رضاع، كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم.اھ(القسم الثالث المحرمات بالرضاع،ج:1،ص:277،ط:ماجدیۃ)
و فی شرح مختصر الكرخي:وأما إن تزوج إحداهما بعد الأخرى، فسد نكاح الثانية وفرق بينهما؛ وذلك لأن نكاح الأولى قد صح، والحظر حصل في نكاح الثانية؛ لأن الجمع به وقع فاختص الفساد به، فإن كان لم يدخل بها فلا مهر لها ولا عدة عليها؛ لأن النكاح الفاسد إذا لم يتصل به الدخول لم يتعلق به شيء من الأحكام، بدليل قوله ﷺ: "أيما امرأة أنكحت نفسها بغير إذن وليها فنكاحها باطل" ،فإن دخل بها، فلها مهر مثلها، فعلق الحكم بالدخول فإن دخل بها فعليها العدة؛ لأنه وطئ بنكاح فاسد فيثبت به النسب، والوطء الذي يثبت به النسب يوجب العدة كالوطء بنكاح صحيح.اھ(باب ذكر ما حرم الله تعالى في كتابه،ج:3،ص:387،ط:دار اسفار)