میرے 51 بھیڑ بکریاں ہیں ۔جن میں 29 بھیڑ ایک سال ٹائم پر لیے ہیں ۔جبکہ باقی نقد پیسوں پر ہیں ۔میرا مقصد ان کے بچوں کو بیچ کر پیسے کمانا ہے ۔جبکہ بھیڑ بکریاں، اگر اچھا منافع ملا یا ضرورت پڑی یا پسند نہ آیا تو بیچ دونگا۔اس پر زکوٰۃ کا طریقہ بتائیں۔ایک سال بعد جب بھیڑ بکریاں نقد ہو جائیں تو ان کا بھی زکوٰۃ بتا دیں ۔شکریہ
واضح رہے کہ شریعتِ مُطَہَّرہ نے بھیڑ بکریوں کی زکوٰۃ کے لئے کم از کم نصاب چالیس کی تعداد مقرر کی ہے، اور وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بندے پر اتنا قرض نہ ہو کہ جسے منہا کرنے(نکالنے) کے بعد نصاب ناقص رہ جائے ۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے پاس مذکورہ بھیڑ بکریوں کے علاوہ اتنے پیسے نہ ہوں کہ جن سے 29 بکریوں کا قرضہ ادا کیا جائے تو اس قرض کی وجہ سے 29 بکریاں قرض میں شمار ہوں گی ،جس کی وجہ سے سائل کا نصاب پورا نہیں رہے گا بلکہ اس کے پاس 22 بڑی بکریاں بچ جاتی ہیں۔ چنانچہ فی الحال سائل پر ان بھیڑ بکریوں کی زکوٰۃ واجب نہیں۔ اور جب تک قرض کی ادائیگی کے بعد چالیس بکریاں نہیں بچتیں تب تک زکوٰۃ کا حکم لاگو نہیں ہوگا۔
کما فی الدر المختار:(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب.(الی قولہ)(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة الخ (کتاب الزکوۃ ج:2 ص:260 ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً:(نصاب الغنم ضأنا أو معزا) فإنهما سواء في تكميل النصاب والأضحية والربا لا في أداء الواجب والأيمان (أربعون وفيها شاة) تعم الذكور والإناث الخ(باب زکوۃ الغنم ج:2 ص:281 ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: ودخل ما ملك بسبب خبيث كمغصوب خلطه إذا كان له غيره منفصل عنه يوفي دينه الخ
و فی الشامیۃ تحت (قوله: ودخل) أي في ملك النصاب المذكور فتح (قوله: ما ملك بسبب خبيث إلخ) أي على قول الإمام (الی قولہ)وقيد بما إذا كان له غيره إلخ لأنه إذا لم يكن له غيره يكون مشغولا بالدين للمغصوب منه، فلا تلزمه زكاته ما لم يبرئه منه، والمراد بالغير ما تجب فيه الزكاة لما في السراج: لا يصرف الدين لملك آخر لا زكاة فيه، الخ (کتاب الزکوۃ ج:2 ص:260 ط: سعید۔کراتشی)۔
وفی بدائع الصنائع: ولأن في التكميل باعتبار التقويم ضرب احتياط في باب العبادة ونظرا للفقراء فكان أولى، ثم عند أبي حنيفة يعتبر في التقويم منفعة الفقراء كما هو أصله الخ (کتاب الزکوۃ فصل فی اموال التجارۃ ج:2 ص:20 ط: دار الکتب العلمیة، بیروت)۔
و فی التاتارخانیۃ: ویجب العشر علی المدیون بخلاف الزکاۃ الخ(کتاب العشر فصل فیمن یجب علیہ العشر ج:3 ص:281 ط: مکتبہ زکریا۔دیوبند)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1