نکاح

وٹہ سٹہ کے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

فتوی نمبر :
98627
| تاریخ :
2026-08-20
معاملات / احکام نکاح / نکاح

وٹہ سٹہ کے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
میری بہن نے میری بیٹی کا رشتہ مانگا اپنے بیٹے کے لیے ،تو میں نے کہا ٹھیک ہے ، آپ اپنی بیٹی کا رشتہ میرے بیٹے کے لیے دیدیں ، اور میں اپنی بیٹی کا رشتہ آپ کے بیٹے کے لیے دے دیتا ہوں ، تو کیا اس طرح وٹے سٹے کا رشتہ کرنا جائز اور درست ہے کہ نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ وٹہ سٹہ کی یہ صورت کہ فریقین میں سے ہر ایک اپنی بیٹی کی مکمل رضامندی و خوشی سے اس کا نکاح ایک دوسر ے کے بیٹے سے کردیں ، جبکہ ہر ایک نکاح میں دیگر شرائط نکاح کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ہر دو لڑکیوں کے لیے حق مہر بھی مقرر کیا گیاہو، تو وٹہ سٹہ کی یہ صورت نکاح شغار میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے شرعاجائز ہے۔ لیکن ایسی صورت میں عموما ہمارےمعاشرے میں کسی ایک فریق کی جانب سے لڑکی کی حق تلفی کی جارہی ہو یا اسے ظلم و زیادتی کا سامنا ہو، تو دوسرا فریق بھی بلاوجہ دوسری لڑکی پر ظلم کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اس کے شوہر کو بھی اس کے گھر والوں کی جانب سے بلاوجہ اس پر ظلم و حق تلفی پر مجبور کیا جاتا ہے ، یہان تک کہ بعض اوقات طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے ، اس لیے ان امور کے پیش نظر وٹہ سٹہ کے نکاح سے بہرحال احتراز بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (ووجب مهر المثل في الشغار) هو أن يزوجه بنته على أن يزوجه الآخر بنته أو أخته مثلا معاوضة بالعقدين وهو منهي عنه لخلوه عن المهر، فأوجبنا فيه مهر المثل فلم يبق شغارا اھ
وفی رد المحتار: تحت (قوله في الشغار) بكسر الشين مصدر شاغر اهـ ح (قوله هو أن يزوجه إلخ) قال في النهر: وهو أن يشاغر الرجل: أي يزوجه حريمته على أن يزوجه الآخر حريمته ولا مهر إلا هذا، كذا في المغرب: أي على أن يكون بضع كل صداقا عن الآخر، وهذا المقيد لا بد منه في مسمى الشغار، حتى لو لم يقل ذلك ولا معناه بل قال زوجتك بنتي على أن تزوجني بنتك فقبل أو على أن يكون بضع بنتي صداقا لبنتك فلم يقبل الآخر بل زوجه بنته ولم يجعلها صداقا لم يكن شغارا بل نكاحا صحيحا اتفاقا وإن وجب مهر المثل في الكل، لما أنه سمى ما لا يصلح صداقا، وأصل الشغور: الخلو، يقال بلدة شاغرة إذا خلت عن السكان، والمراد هنا الخلو عن المهر لأنهما بهذا الشرط كأنهما أخليا البضع عنه نهر (قوله معاوضة بالعقدين) المراد بالعقد المعقود عليه وهو البضع كما في الحواشي السعدية: أي على أن يكون كل بضع عوض الآخر مع القبول من العاقد الآخر كما يشير إليه لفظ المفاعلة، فاحترز عما إذا لم يصرح بكون كل بضع عوض البضع للآخر أو صرح به أحدهما وقال الآخر زوجتك بنتي كما مر اھ (مطلب فی نکاح الشغار ج:3 ص:106 ناشر: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98627کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات