نکاح

لڑکی سے صراحۃ اجازت نہ لینےکی صورت میں اگر اس کے والد نے لڑکی کے چچا کو نکاح کرنے کی اجازت دی ہو تو ایسے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
98878
| تاریخ :
2026-08-29
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی سے صراحۃ اجازت نہ لینےکی صورت میں اگر اس کے والد نے لڑکی کے چچا کو نکاح کرنے کی اجازت دی ہو تو ایسے نکاح کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہےکہ ایک بالغ لڑکی کا نکاح ہوا، لڑکی کے والد نے اس کے چچا کو نکاح کے معاملے میں اجازت دی تھی ،لڑکی کا چچا نکاح کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل بنا ،جبکہ لڑکا خود نكاح کی مجلس میں موجود نہیں تھا، بلکہ اس کی طرف سے بھی ایک وکیل موجود تھا ، اہم بات یہ ہے کہ لڑکی بالغ تھی اور وہ اس لڑکے سے نکاح پر راضی بھی تھی، لیکن لڑکی نے خود اپنے چچا کو اپنی طرف سے نكاح کرنے کا وکیل ىا باقاعدہ اجازت نہیں دی تھی، صرف لڑکی کے والد نے چچا کو اجازت دی تھی، نکاح کے بعد ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی لڑکی کی، اب لڑکی اس نکاح کو قبول نہیں کرنا چاہتی اور رخصتی کے لیے بھی رضامند نہیں ہیں، براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
کیا مذکوره صورت میں نکاح شرعاً منعقد ہو گیا ہے؟ کیا بالغ لڑکی کی اپنی اجازت کے بغیر والد کی طرف سے چچا کو دی گئی اجازت کافی ہے؟ اگر نکاح صحىح طور پر منعقد نہیں ہوا تو کیا طلاق یا خلع کی ضرورت ہوگی؟ اگر نکاح منعقد ہو گیا ہو تو لڑکی کے لیے شرعی طور پر اس نکاح سے نکلنے کا کیا طریقہ ہے؟ جب تک مسئلہ حل نہ ہو کیا لڑکی کی رخصتی روکنا ضروری ہے؟ براہ کرم قران و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں واضح اور تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ مىں جب مذكور لڑکا لڑکی کے نکاح کے وقت دونوں بالغ تھے، تو اصولاً ان كے نکاح کا اختیار ان دونوں کے پاس تھا، تاہم اگر دونوں نے خود مجلس نکاح میں شرکت کے بجائے ان کی طرف سے دونوں کے بڑوں نے اىجاب قبول کر کے باقاعدہ نکاح کروا دیا، تو اگرچہ اس میں لڑکی کی جانب سےاس کے چچا كو براہ راست وکیل نہ بنا گیا ہو، لیکن تب بھى نکاح ہو جانے کے بعد جب لڑکی نے اس پر خاموشی اختیار کر کے رضامندی کا اظہار کر لیا ہو ،تو اس سے ىہ نکاح شرعاً درست منعقد ہو چکا ہے، اس کے بعد اس نکاح کو ختم کرنے کے لئے باقاعدہ طلاق یا خلع کے ذریعے نکاح ختم کرنا ضرورى ہے، اسے ختم كیے بغىر دوسرى جگہ نكاح كرنا جائز نہىں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: وإن استأذن الولي البكر البالغة فسكتت فذلك إذن منها وكذا إذا مكنت الزوج من نفسها بعدما زوجها الولي فهو رضا وكذا لو طالبت بصداقها بعد العلم فهو رضا هكذا في السراج الوهاج. وإذا قال لها الولي: أريد أن أزوجك من فلان بألف فسكتت ثم زوجها فقالت: لا أرضى أو زوجها ثم بلغها الخبر فسكتت فالسكوت منها رضا في الوجهين جميعا إذا كان المزوج هو الولي اهـ [كتاب النكاح، الباب الرابع في الأولياء في النكاح، ج:1 ص:287 ط: دار الفكر بيروت)]
وفي فتح القدير: (قوله: ولو زوجها فبلغها الخبر فهو على ما ذكرنا) من أنها إن سكتت أو ضحكت بلا استهزاء أو بكت بغير صوت فهو رضا وإلا فلا اهـ. وقال ابن مقاتل: لا يكون السكوت بعد العقد رضا؛ (إلى قوله) والأصح الأول؛ لأن وجه كون السكوت رضا لا يختلف قبل العقد وبعده، فكما كان إذنا قبله لدلالته على الرضا وجب أن يكون إجازة بعده لدلالته عليه، ولا أثر للفرق بكونه ملزما وعدمه على أن الحق أنه ملزم في كل منهما اهـ [كتاب الطلاق، باب الأولياء والأكفاء، ج:3 ص:268 ط: دار الفكر بيروت)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98878کی تصدیق کریں
1     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات