نکاح

ماہواری میں تعطل کی وجہ سے عدت میں نکاح کرنا

فتوی نمبر :
99000
| تاریخ :
2026-09-02
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ماہواری میں تعطل کی وجہ سے عدت میں نکاح کرنا

مفتی صاحب! ایک عورت کو طلاق کے بعد ایک ماہواری گزری، دوسری ماہواری پچیس دن تک آئی اور اس کے بعد علاج و معالجہ جاری ہے،اس کے بعد سے خون نہیں آیا، تیسری ماہواری اب تک نہیں آئی ہے، کیا اس صورت میں کیا گیا نکاح درست ہوگا؟ نیز عورت کب تک انتظار کرے گی؟
نوٹ: سائل سے زبانی معلوم کیا گیا کہ عدت کے دوران واقعی طورپر نکاح کرلیا گیاہے، البتہ مذکور عورت کوماہواری نہ آنے کی وجہ سےاس پر صرف تین ماہ گزارنا ہی عدت کے مکمل ہونے کیلئے لازم سمجھا گیا تھا اور نکاح کے بعددخول یا خلوت صحیحہ کچھ بھی نہیں ہوا ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حیض والی عورت (یعنی جس کو ماہواری آتی ہو اور مایوسی کی عمر کو نہ پہنچی ہو )پر طلاق کی عدت تین ماہواریاں گزارناشرعاً لازم اور ضروری ہے، اس کےبغیر اس کی عدت ختم نہیں ہوگی اور اس دوران کیا گیا نکاح بھی شرعاً درست نہیں ہوگا ،لہذا صورت مسئولہ میں مذکور عورت چونکہ حیض والی ہے، اگرچہ کسی بیماری کی وجہ سے ماہواری آنے میں تاخیر ہو رہی ہے،اس لئےاس پر تین ماہواریاں عدت گزارنا ہی لازم ہے، اس سے پہلے اس کی عدت ختم نہیں ہوگی، لہذا تیسری ماہواری سے قبل کیا گیا نکاح درست نہیں، بلکہ یہ نکاح شرعاً فاسدہے،جس کا ختم کرنا لازم ہے، جس کا طریقہ یہ ہےکہ زوج ثانی عورت کومتارکت کے الفاظ "جیسے میں نے تجھے چھوڑدیا،میں نے تیرا راستہ خالی کردیا" کہہ کر آزاد کردے ، چونکہ اس نکاح کے بعد ہمبستری نہیں ہوئی،لہذا عورت پر اس کی عدت بھی لازم نہیں ،البتہ نکاح اول کی عدت چونکہ ابھی باقی ہے، لہذا علاج معالجہ کرکے تیسری ماہواری کے اختتام پرعورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو جائیگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ فی کلامہ المجید: وَلَا تَعۡزِمُواْ عُقۡدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡكِتَٰبُ أَجَلَهُۥۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ فَٱحۡذَرُوهُۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٞ۔ (سورۃ البقرۃ، آیۃ: 235)
وفي الدر المختار : الشابة الممتدة بالطهر بأن حاضت ثم امتد طهرها، فتعتد بالحيض إلى أن تبلغ سن الاياس جوهرة وغيرها. وما في شرح الوهبانية من انقضائها بتسعة أشهر الخ،( باب العدة، ج: 3 ، ص: 508، مط : سعيد کراچی)
وفی رد المحتار تحت قول الدر(قوله: نعم لو قضى مالكي بذلك نفذ): لأنه مجتهد فيه، وهذا كله رد على ما في البزازية. قال العلامة: والفتوى في زماننا على قول مالك وعلى ما في جامع الفصولين : لو قضى قاض بانقضاء عدتها بعد مضي تسعة أشهر نفذ ( إلى قوله ) قال الزاهدي : وقد كان بعض أصحابنا يفتون بقول مالك في هذه المسألة للضرورة . اهـ. ( باب العدة، ج: 3 ، ص: 508-509 ، مط : سعيد )
وفي البحر الرائق: (قوله وفي النكاح الفاسد إنما يجب مهر المثل بالوطء)(إلى قوله) والمراد بالنكاح الفاسد النكاح الذي لم تجتمع شرائطه كتزوج الأختين معا والنكاح بغير شهود ونكاح الأخت في عدة الأخت ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة ويجب على القاضي التفريق بينهما كي لا يلزم ارتكاب المحظور،الخ. (باب المهر، ج: 3، ص: 181، مط: دار الكتاب الإسلامي)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: (الباب الثامن في النكاح الفاسد وأحكامه) إذا وقع النكاح فاسدا فرق القاضي بين الزوج والمرأة فإن لم يكن دخل بها فلا مهر لها ولا عدة(الیٰ قولہ) وفي مجموع النوازل الطلاق في النكاح الفاسد يكون متاركة ولا ينتقص من عدد الطلاق كذا في الخلاصة. والمتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة، الخ (الباب الثامن في النكاح الفاسد وأحكامه، ج: 1، ص: 330، مط: ماجدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 99000کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات