نکاح

والد کا نابالغ بچی کے کروائےہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
99183
| تاریخ :
2026-09-08
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والد کا نابالغ بچی کے کروائےہوئے نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد نے تقریباً نو سال قبل اپنی بیٹی کا نکاح میری پھوپھی کے بیٹے سے کردیا تھا۔ نکاح کے وقت لڑکی کی عمر تقریباً گیارہ سال تھی۔ مذکورہ نکاح میں لڑکی کی رضامندی شامل نہیں تھی، بلکہ والد نے اپنی مرضی سے یہ نکاح کیا تھا۔ اب بھی لڑکی مذکورہ نکاح پر رضامند نہیں ہے اور اس رشتے کو برقرار رکھنے پر آمادہ نہیں۔معلوم یہ کرنا ہے کہ چونکہ یہ نکاح لڑکی کی رضامندی کے بغیر کیا گیا ہے اس لئے یہ نکاح شرعاً منعقد ہوا ہے یا نہیں ؟
مزید یہ کہ یہ رشتہ وٹہ سٹہ کی بنیاد پر ہے اور وٹہ سٹہ میں عموماً لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے دوسرے کا بھی گھر خراب ہوتا ہے اس لئے والد صاحب کے علاوہ باقی سب افراد یہ چاہتے ہیں کہ یہ رشتہ نا ہو لیکن والد صاحب اس پر اصرار کررہے ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کسی نابالغہ لڑکی کا نکاح اس کا والد یا دادا اپنی مرضی سے کسی شخص کے ساتھ کردے تو ایسا نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے اور بعد میں لڑکی کو اس نکاح کے فسخ کا اختیار حاصل نہیں رہتا، الا یہ کہ والد یا دادا کا سوء اختیار اور نااہلی معروف و ثابت ہو۔لہٰذا صورت مسئولہ میں جب سائل کے والد نے اپنی بیٹی کا نکاح اس کی بلوغت سے پہلے اپنی مرضی سے اپنے بھانجے کے ساتھ کردیا تھا، تو اگرچہ نکاح کے وقت لڑکی کی دلی رضامندی شامل نہ تھی، تب بھی مذکورہ نکاح شرعاً منعقد ہوچکا ہے، اور اب محض عدم رضامندی کی بنا پر اسے اس نکاح کو فسخ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ا ور جہاں تک وٹہ سٹہ کی بات ہے تو واضح رہے کہ آئندہ کے حالات کا کسی کو یقینی علم نہیں، لہٰذا محض کسی ممکنہ اختلاف یا لڑائی جھگڑے کے اندیشے کو بنیاد بنا کر والد کی طرف سے کیے گئے نکاح کو ختم کرنے پر اصرار کرنا مناسب نہیں جس سے احتراز چاہئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:(وللولي) الآتي بيانه (إنكاح الصغير والصغيرة)جبرا (ولو ثيبا) كمعتوه ومجنون شهرا (ولزم النكاح ولو بغبن فاحش) بنقص مهرها وزيادة مهره (أو) زوجها (بغير كفء إن كان الولي) المزوج بنفسه بغبن (أبا أو جدا) وكذا المولى وابن المجنونة (لم يعرف منهما سوء الاختيار) مجانة وفسقا (وإن عرف لا) يصح النكاح اتفاقا وكذا لو كان سكران فزوجها من فاسق، أو شرير، أو فقير، أو ذي حرفة دنية لظهور سوء اختياره فلا تعارضه شفقته المظنونة(باب الولی،ج3ص:66،ط:دار الفكر-بيروت)
وفی الهداية في شرح بداية المبتدي:ويجوز نكاح الصغير والصغيرة إذا زوجهما الولي بكرا كانت الصغيرة أو ثيبا والولي هو العصبة ۔۔۔۔۔۔۔قال: "فإن زوجهما الأب أو الجد" يعني الصغير والصغيرة "فلا خيار لهما" بعد بلوغهما لأنهما كاملا الرأي وافرا الشفقة فيلزم العقد بمباشرتهما كما إذا باشراه برضاهما بعد البلوغ " ( باب في الأولياء والأكفاء،ج1،ص:193 ط: بيروت - لبنان)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 99183کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات