کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ماں باپ نے لڑکی کا نکاح زید کے ساتھ کرایا تھا، لڑکی کو زید پسند نہیں تھا، اس کو عمر پسند تھا، اور عمر اس لڑکی کو بھگا کر لے گیا اور اس کے ساتھ نکاح بھی کیا ، تو زید کے خاندان والے کہتے ہیں کہ عمر کے خاندان اور رشتہ داروں سے تعلق رکھنا بالکل حرام ہے، اور جس امام نے ان کا نکاح پڑھایا ہے، اس کے پیچھے بھی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، آیا ان کا یہ رویہ شرعا درست ہے یا نہیں ؟ اور عمر کے خاندان سے قطع رحمی کرنا اور امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ منکوحہ عورت کا اپنے شوہر سے طلاق یا خلع لیے بغیر کسی غیر مرد سے نکاح کرنا شرعاً ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اور اس قسم کے نکاح کے بعد لڑکا لڑکی کا باہم جنسی تعلق قائم کرناشرعاً زنا کے زمرے میں آتا ہے، جس پر حکومت اسلامیہ کو حد زنا یعنی رجم وغیرہ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مسمّیٰ (عمر) کو مذکور عورت کے منکوحہ ہونے کا علم تھا اور اس کے باوجود اس نے اس سے نکاح کیا ہو، تو یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، بلکہ یہ نکاح شرعاً باطل ہے ، اوراس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس طرح کے حرام کاموں سے مکمل اجتناب کریں ، جبکہ عمر کے خاندان کے افرادنے اگر عمر کی مذکور غلطی میں اس کی معاونت یا سہولت کاری کاکردارادانہ کیاہو؛بلکہ انہوں نے اس کے مذکورناجائزفعل سے برائت کااظہارکیاہو ، تو ایسی صورت میں محض عمرکی قرابتداری کی بنیاد پر ان سے قطع تعلقی کرنا درست نہیں ، بلکہ کسی شخص کی انفرادی غلطی یا گناہ پر پوری برادری سے میل جول ختم کرنا قطع رحمی کے گناہ میں ملوث ہونے کے مترادف ہے، جس سے احتراز چائیے۔لیکن اگرعمرکی برادری اس کے مذکورناجائزفعل میں اس کی طرفداری یاحمایت کررہی ہوتواس صورت میں جب تک وہ عمرکی حمایت سے دستبرداری اوراس کے مذکورگناہ سے اپنی برائت کااعلان نہ کردے، اس وقت تک ان سے تعلقات منقطع کرنے کی گنجائش ہے۔
اسی طرح جس امام نے ان دونوں کا نکاح پڑھایا ہو ،اگر وہ اس عورت کے منکوحہ ہونے سے لاعلم ہو، تو ایسی صورت میں ان کے پیچھے نماز پڑھنا اوران کومنصب امامت پرقائم رکھناشرعاً جائز ہے، البتہ اگرمذکور امام کو معلوم ہو کہ عورت پہلے سے کسی دوسرے شخص (زید) کے نکاح میں ہے، اس کے باوجود اس نے مذکورعورت کا نکاح دوسرے شخص (عمر) سے پڑھایاہو، تو یہ شرعاً ناجائز اور گناہ کا ارتکاب ہے، جس کی وجہ سےمذکورامام پرفسق کاحکم لاگوہوگااورایسے فاسق امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا اوراسے اپنے اختیارسے امام بنانامکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا اس کی اقتداء میں نمازپڑھنے کے بجائے دوسرےکسی متبع سنت عالم دین کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
کما في التفسير المظهري: وَالْمُحْصَناتُ مِنَ النِّساءِ عطف على أمهاتكم يعنى حرمت عليكم المحصنات من النّساء اى ذوات الأزواج لا يحل للغير نكاحهن ما لم يمت زوجها او يطلقها وتنقضى عدّتها من الوفاة او الطلاق اھ ( 2/ 64)۔
و فی شرح صحیح البخاری لابن بطال: قال الطبرى: وفى حديث كعب بن مالك أصل فى هجران أهل المعاصى والفسوق والبدع، ألا ترى أنه عليه السلام نهى عن كلامهم بتخلفهم عنه، ولم يكن ذلك كفرًا ولا ارتدادًا، وإنما كان معصية ركبوها، فأمر بهجرتهم حتى تاب الله عليهم، ثم أذن فى مراجعتهم، فكذلك الحق فيمن أحداث ذنبًا خالف به أمر الله ورسوله فيما لا شبهة فيه ولا تأويل، أو ركب معصية على علم أنها معصية لله أن يهجر غضبًا لله ورسوله، ولا يكلم حتى يتوب وتعلم توبته علمًا ظاهرًا كما قال فى قصة الثلاثة الذين خلفوا. الخ(9/272)۔
و في شرح النووي على مسلم: واتفقوا على أن التوبة من جميع المعاصي واجبة وأنها واجبة على الفور لايجوز تأخيرها سواء كانت المعصية صغيرة أوكبيرة الخ(17/ 59)۔
و فی رد المحتار: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. الخ(3/ 132)۔
و في الفتاوى الهندية: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة كذا في السراج الوهاج اھ (1/ 280)۔
وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق :(قوله وكره امامة العبد والاعرابي والفاسق والمبتدع والاعمى وولد الزنا).. وأما الكراهه فمبنية على قلة رغبة الناس في الاقتداء بهؤلاء فيؤدي الى تقليل الجماعة المطلوب تكثيرها تكثيرا للاجر..(ج:1،ص:348)۔
و فی بدائع الصنائع: ومنها أن لا تكون منكوحة الغير، لقوله تعالى: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] معطوفا على قوله عز وجل: {حرمت عليكم أمهاتكم} [النساء: 23] إلى قوله: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] وهن ذوات الأزواج، وسواء كان زوجها مسلما أو كافرا إلا المسبية التي هي ذات زوج سبيت وحدها؛ لأن قوله عز وجل: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] عام في جميع ذوات الأزواج (2/ 268)۔