السلام علیکم
محترم مفتی صاحب مجھے، تبلیغی جماعت میں خواتین کی ہفتہ وار تعلیم سے متعلق کچھ باتیں دریافت کرنی تھیں۔
۱۔ تعلیم کے وقت یہ کہا جاتا ہے کہ جڑ جڑ کر بیٹھ جائیں ورنہ درمیان میں شیطان آجائے گا ، حضرت معلوم یہ کرنا تھا کہ یہ کیا کسی حدیث کا مضمون ہے یا علمی حلقے کے آداب کی رعایت کرنے کے لیے کہہ دیا جاتا ہے ؟
۲۔ دوسرا یہ کہ تعلیم ختم ہونے کے بعد خواتین آپس میں مصافحہ کرتی ہیں، جن میں سے اکثر سلام بھی ساتھ میں نہیں کرتیں اور یہ رخصت کا مصافحہ بھی نہیں ہوتا کہ سب بیٹھے بیٹھے اپنے پاس والوں سے دعا کے بعد مصافحہ شروع کر دیتی ہیں چاہے وہاں سے جائیں تھوڑی دیر بعد ہی، تو اس مصافحہ کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
۳۔ تیسرا یہ کہ تبلیغ میں ایک خاتون نے یہ بیان کیا ہے کہ ہم لوگ کہتے ہیں کہ فلان چیز کھائی تھی تو طبیعت خراب ہوگئی ، یا فلان سے دوائی لی تھی تو طبیعت ٹھیک ہوگئی، تو اس طرح کہنے سے شرک ہو جاتا ہے ؟ مفتی صاحب کیا اس طرح کہنے سے شرک ہو جاتا ہے ؟ جب کہنے والا ان چیزوں کو سبب اصلی تو نہیں سمجھتا، بلکہ سبب عادی کے طور پر کہتا ہے اور سبب حقیقی اللہ تعالٰی کے حکم کو ہی سمجھتا ہے۔
۱۔ مل مل کر بیٹھنا آداب مجلس میں سے ہے اور یہ ادب بعض احادیث سے مستفاد ہیں، مگر حلقہ کے درمیان جگہ خالی رکھنے سے شیطان کے آنے کی تصریح کسی حدیث میں نہ مل سکی۔
۲۔ اس موقع پر مصافحہ کرنا ثابت نہیں محض رسم ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
۳۔ بظاہر یہ شرک نہیں کیونکہ اللہ نے مسببات کو اسباب کے ساتھ جوڑا ہے ،مگر اہل حقیقت جن کی نظر مسبب الاسباب پر ہے وہ اس کو بھی اس زمرے میں شمار کرتے ہیں۔
کما فی كنز العمال: "إذا جلستم إلى العلم أو في مجلس العلم فادنوا، وليجلس بعضكم خلف بعض، ولا تجلسوا متفرقين كما يجلس أهل الجاهلية". (10/ 239)
و في فتح الباري لابن حجر: ومعنى أوى إلى الله لجأ إلى الله أو على الحذف أي انضم إلى مجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعنى فآواه الله أي جازاه بنظير فعله بأن ضمه إلى رحمته ورضوانه وفيه استحباب الأدب في مجالس العلم وفضل سد خلل الحلقة كما ورد الترغيب في سد خلل الصفوف في الصلاة اھ (1/ 157)
کما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كما أفاده النووي في أذكاره) (إلی قوله) وموضع المصافحة في الشرع، إنما هو عند لقاء المسلم لأخيه لا في أدبار الصلوات فحيث وضعها الشرع يضعها فينهى عن ذلك ويزجر فاعله لما أتى به من خلاف السنة اهـ. (6/ 381)۔
کما فى حاشیة صحيح البخاري: والتوكل هو تفويض الأمر إلى الله تعالى في ترتيب المسببات على الأسباب (الى قوله) واما حديث لا يسترقون و لا يكتوون فهو صفة الأولياء المعرضين عن الاسباب لا يلتفتون إلى شي من العلائق وتلك درجة الخواص اھ (باب من لم یرق : ۲/ ۸۵۶) والله سبحانه وتعالى اعلم