میرا سوال یہ ہے کہ میں نے چار مہینے کیلیے تبلیغ پر جانے کا ارادہ کیا ہے اور میرے والد صاحب مجھے اجازت نہیں دے رہے تو میں اپنے والد صاحب کی اجازت کے بغیر جاسکتا ہوں؟ اور میرے والد صاحب بددعا بھی دیتے ہیں، اگر اُن کی بات نہ مانی جائے، ہم پانچ بھائی ہیں، میں سب سے بڑا بھائی ہوں اور میرے والد صاحب کا اپنا کاروبار ہے اور گھر کا سارا خرچہ والد صاحب اپنے کاروبار سے کرتے ہیں،میں نوکری کرتاہوں اور کچھ پیسے والد صاحب کو دیتاہوں، والدصاحب اس لیے جانے سے منع کرتے ہیں کہ پیسے خرچ ہوتے ہیں ۔
جب والد صاحب کی طرف سے سفرِتبلیغ پر جانے کی اجازت نہیں تو اُسے چاہیے کہ مقامی کام پر خصوصی توجہ دے اور والد صاحب کی خدمت اور ذہن سازی کرتا رہے، جب وہ بخوشی اجازت دیدیں تو تبلیغی سفر بھی کرلے، جبکہ والد صاحب موصوف اگر خدمت کےمحتاج نہ ہو ں، جیسا کہ سوال سے واضح ہے تو اِ ن کو چاہیے کہ اُ سے بخوشی دین کا کام کرنے دے، تاکہ وہ بھی ثواب میں برابر کےشریک ہوں۔
ففی بدائع الصنائع: والأصل أن كل سفر لا يؤمن فيه الهلاك، ويشتد فيه الخطر لا يحل للولد أن يخرج إليه بغير إذن والديه؛ لأنهما يشفقان على ولدهما فيتضرران بذلك، وكل سفر لا يشتد فيه الخطر يحل له أن يخرج إليه بغير إذنهما إذا لم يضيعهما؛ لانعدام الضرر، ومن مشايخنا من رخص في سفر التعلم بغير إذنهما؛ لأنهما لا يتضرران بذلك بل ينتفعان به، فلا يلحقه سمة العقوق الخ (۷/۹۸)۔ واللہ ﺃعلم بالصواب!