جناب مفتی صاحب! میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے والدین کا تعلق بریلوی مسلک سے ہے، جبکہ میرا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے، جب بھی جماعت میں جانے کا ارادہ کرتا ہوں تو گھر میں فساد ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا جا تا ہے یا آگے پیچھے ہو کر کیا جاتا ہے، کاروباری اعتبار سے وقت کا نکلنا مشکل ہے اور بزرگوں کی ترتیب پر چار ماہ لگانا والدین کی رضامندی کے ساتھ بہت مشکل ہے ۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا تبلیغ کیلۓ والدین کی اجازت کے بغیر جانا درست ہے، کیونکہ میں جب بھی اجازت لیتا ہوں، و ہ اجازت نہیں دیتے، کیونکہ انکی نظر میں مخالفت ہے اور میں نہ جانے سے پریشان ہوتاہوں اور کسی چیز میں دل نہیں لگتا ۔
نوٹ : جبکہ بیچ میں ایک دفعہ اللہ کے راستے میں گیا تھا، لیکن الحمد اللہ گھر کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں بنا تھا۔
(1)۔ ایسی صورتِ حال میں اگرچہ سائل کو اپنے والدین کی اجازت سے ہی جانے کا اہتمام کرنا چاہیۓ اور جب تک وہ باہر جانے کی اجازت نہ دیں، اس وقت تک وہ مقامی طور پر اعمال میں جڑنے کی کو شش کرے ،تاہم اس کے والدین کو بھی چاہیۓ کہ بچے کو دینداری والے اعمال میں جڑنے پر بجائے رکاوٹ بننے اور ناراض ہونے کے انہیں خوش ہونا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیۓ ، بچے کے نیک اعمال پر انہیں بھی برابرکا اجر و ثواب ملے گا اور یہ ان کیلۓ صدقہ جاریہ بھی ہوگا ۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله و له الخروج إلخ) أي إن لم يخف على والديه الضيعة بأن كانا موسرين ، و لم تكن نفقتهما عليه . و في الخانية : و لو أراد الخروج إلى الحج و كره ذلك قالوا إن استغنى الأب عن خدمته فلا بأس ، و إلا فلا يسعه الخروج ، فإن احتاجا إلى النفقة و لا يقدر أن يخلف لهما نفقة كاملة أو أمكنه إلا أن الغالب على الطريق الخوف فلا يخرج ، و لو الغالب السلامة يخرج. و في بعض الروايات لا يخرج إلى الجهاد إلا بإذنهما و لو أذن أحدهما فقط لا ينبغي له الخروج ، لأن مراعاة حقهما فرض عين و الجهاد فرض كفاية ، (إلی قوله)هذا في سفر الجهاد ، فلو في سفر تجارة أو حج لا بأس به بلا إذن الأبوين إن استغنيا عن خدمته إذ ليس فيه إبطال حقهما إلا إذا كان الطريق مخوفا كالبحر فلا يخرج إلا بإذنهما و إن استغنيا عن خدمته و لو خرج المتعلم و ضيع عياله يراعى حق العيال اهـ(6/ 408)۔