مفتی صاحب! بعض علماء ہمیں تبلیغ میں جانے سے منع کرتے ہیں اور جہاد کرنے کو کہتے ہیں اور دین کو بزورِ بازو ، دنیا میں لانا چاہتے ہیں، ان علماء کے متعلق شریعت کیا کہتی ہے؟
تبلیغ اور جہاد دونوں ایک درجہ کے ہی دینِ اسلام کے شعبے ہیں اور موقع کی مناسبت سے دونوں پر عمل کرنا لازم ہے ، کسی ایک کو اس طرح لازم کرلینا کہ دوسرے کی نفی کو مستلزم ہو ، شریعت سے ناواقفیت پر مبنی ہے اس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی : ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم اٰیته و یزکیھم و یعلمھم الکتاب و الحکمة و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین۔(سورۃ جمعةآیت:۲)۔