میں فقہ حنفی کا ماننے والا ہوں اور مسلک دیوبند سے میرا تعلق ہے، میری تایازاد بہن جن کی شادی ۲۶ سال پہلے ہوئی تھی، ہمارا گھرانہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتا تھا، میری کزن کی شادی بھی مسلک بریلوی میں ہوئی، ان کےشوہر شوہر بریلوی ہیں، مگر بریلوی جہالت اور کفریہ کلمات پر سخت تنقید کرتے ہیں، مگر حقیقی معنی میں عشقِ رسول پر بہت زور دیتے ہیں، باقی تمام خرافات پر تنقید کرتے ہیں، میری کزن اور ان کے بچے میری تبلیغ سے متاثر ہیں، میری کزن کے شوہر کہتے ہیں کہ لڑکے بالغ ہونے کے بعد اپنی مرضی کے مالک ہیں جو چاہیں عقائد اختیار کرسکتے ہیں، مگر بیگم ا ور بیٹوں کو اپنے شوہر اور والد کی اجازت کے بغیر اپنے پرانے عقائد سے نہیں ہٹانا چاہیے، وہ کہتے ہیں کہ اگر میں کسی کی بیٹی یا بیوی کو اپنے عقائد کے بارے میں راغب کروں گا تو پہلے ان کے والد یا شوہر کو قائل کروں گا، بغیر والد اور شوہر کی اجازت کے ایسا کرنا صحیح نہیں اور بیوی اور بیٹی حکمِ عدولی کی مرتکب ہورہی ہے، میری کزن اور ان کی بیٹیاں میرے لیے نامحرم ہیں یہ مجھے پتہ ہے، میری وجہ سے ان کے گھر میں فساد برپا ہورہا ہے اور بات علیحدگی کی طرف جارہی ہے، میری کزن کے شوہر کہتے ہیں کہ حدیث کے مطابق انسان کو دوسرے کیلیے وہی پسند کرنا چاہیے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ کیا میں یہ پسند کروں گا کہ میری کزن کے شوہر میری مرضی اور اجازت کے بغیر میرے بیوی، بچوں پر اپنے نظریات کی تبلیغ کریں؟ اگر میں یہ پسند نہیں کرتا تو مجھے بھی احتیاط کرنا چاہیے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنا کام کرتا رہوں اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟ جبکہ اس وجہ سے ایک گھر تباہ ہونے جارہا ہے اور میری کزن اور ان کے بچے اپنے باپ کو وہ عزت اور احترام نہیں دیتے جو ان کا حق ہے، بلکہ وہ میری بات کو اہمیت دے کر مانتے ہیں اور میری بہت عزت کرتے ہیں، میں بھی اپنی کزن کے شوہر کو بہت عزت و احترام دیتا ہوں، مگر نظریات کا فرق ہے، میری راہنمائی فرمائیں کہ کیا میں صحیح کررہا ہوں یا مجھے پہلے اپنے کزن کے شوہر کو قائل کرنا چاہیے؟
کسی خاتون کو دین کی دعوت سے قبل اس کے شوہر یا والد کو قائل کرنا لازم نہیں، بلکہ ہر عاقل و بالغ کو اختیار ہے کہ وہ دین کی صحیح معلومات حاصل کرکے اس پر عمل کرے، چنانچہ سائل کی کزن اور اس کی اولاد کو تبلیغ اور صحیح بات بتانا سائل پر فرض ہے، تاہم طریقہ کار ایسا اختیار کرنا چاہیے کہ جس سے ان کا گھر نہ اُجڑے اور باہمی نزاع بھی پیدا نہ ہو، کزن کے شوہر کو بھی اگر صحیح بات طریقے سے سمجھادی جائے تو امید ہے کہ ان کو بھی سمجھ میں آجائے گا، جبکہ سائل کے کزن اور اس کے بچوں کو چاہیے کہ وہ اپنے والد کو عزت و احترام کا مقام دیں تاکہ وہ بھی صحیح عقائد کی طرف مائل ہو۔
ففي مرقاة المفاتيح: ثم اعلم انه أذا كان المنكر حرامًا وجب الزجر عنه واذا کان مکروها ندب، والامر بالمعروف ایضا تبع لما یومر به فان وجب فواجب وان ندب فمندوب (الی قوله) وشرطہا ان لا یودی الی الفتنة کما علم من الحدیث وان یظن قبوله اھ (ج8، ص862)
وفی احکام القرآن للتھانوی: ومن شرائط الامر بالمعروف والنهی عن المنکر للقادر علیهما ان یکون عالمًا بحکم ما یامرہ به وینہی عنه مفصلًا بقدر الضرورۃ۔ اھ (ج2، ص58) ـــــــــــــــــــــــــــ واللہ اعلم بالصواب!