کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تبلیغی جماعت والے اکثر لوگوں کو عصر کے وقت اپنے ساتھ ذکر میں شامل ہونے کے لیے کہتے ہیں اور پھر وہاں وہ لوگوں کو کہتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ تین دن کے لیے، چالیس دن کے لیے دوسرے شہر میں چلیں اسلام کی تبلیغ مسلمانوں اور غیر مسلم کو کرنے کے لیے وغیرہ ، جاننا یہ ہے کہ کیا یہ فرض کفایہ ہےیا سنتِ مؤ کدہ ہےیا واجب ہے؟
فتویٰ شیخ عبد المجید صاحب کے طرف سے جو ایک مشہور جامعۃ الاظہر کے علماء کا ہے، ’’تبلیغ کرنے والوں کا جو ایک موجودہ گروہ ہے جو تبلیغِ اسلام کی دعوت دیتا ہے اس کا حاصل ہے جب وہ لوگوں کو نماز اور اسلامی تعلیم کی دعوت دیتا ہے یہ گروہ مختلف ممالک کا دورہ کرتے ہیں تا کہ لوگوں کو اسلامی تعلیم سے آگاہ کرے۔
بہر حال اس گروہ کے لوگوں کی کچھ کمزوریاں ہیں، مثلاً : وہ مختلف ممالک کے سفر کرنے کو دعوتِ اسلام کے لیے فرض سمجھتے ہیں ، اپنے کاموں اور خاندانوں کو چھوڑ کر ، اس کے علاوہ وہ ایک خاص قسم کے لباس پر بہت زور دیتے ہیں جو دوسرے ممالک اور ثقافت کے لحاظ سے مناسب نہ ہو ، اور بنیادی مسائل کو چھوڑ دیتے ہیں تا کہ اپنے آپ کو محفوظ کر لیں اختلافات اور اختیار و طاقت سے ۔
’’مرد اور عورتوں کو تبلیغی جماعت کے ساتھ نہیں جانا چاہیے اور یہ فرض نہیں ہے ، ہر مسلمان اپنے طور پر اپنے علاقے میں لوگوں کو اسلامی تعلیم کی طرف دعوت دے سکتے ہیں ، تبلیغی جماعت کا آغاز پاکستان میں صرف اس مقصد سے ہوا کہ لوگوں کو یہ یاد دلایا جائے کہ وہ اپنے مذہب کو یاد رکھیں اور اس کی پابندی کریں ، ان کا انداز سادہ ہے اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کی دعوت اور تبلیغ کے لیے گھر سے ، ملک سے نکلا جائے ، اسی طرح جس طرح پیغمبرِ اسلام نے کیا اور لوگوں کو اخلاق و خیال کی تعلیم دیں ، عام طور پر وہ کسی سیاسی اور معاشی محرکات میں شامل نہیں ہوتے وہ آپ کی مقامی مسجد میں آئیں، کیونکہ وہ بھلائی کر رہے ہیں‘‘۔
محترم! موجودہ تبلیغی جماعت کا مقصد جیسے عجیب سمجھا ہے کہ ہر شخص کو اس کے شہر اور ملک سے تبلیغِ اسلام کے لیے نکالا جائے قطعاً نہیں، بلکہ اس جماعت کا مقصد یہ ہے کہ دینِ اسلام اپنے حقیقی معنوں میں امتِ محمدیہ میں اُجاگر ہو جائے تا کہ ربِّ کریم کی رضامندی حاصل ہو جائے ، پھر چونکہ اس کو بھی سیکھنا پڑتا ہے جیسے ڈاکٹر و انجینئر بننے کے لیے گھر سے نکلنا پڑتا ہے ، اس لیے ایک اچھا مسلمان بننے اور دینِ محمدیہ کو سیکھنے کے لیے بھی گھر سے نکلنا پڑتا ہے ، مسلمانوں پر جو امور فرض ہیں ان کا سیکھنا بھی فرض ہے ، جو واجب ہیں ان کاسمجھنا بھی واجب کے حکم میں ہے ، گھر میں رہتے ہوئے فرض و واجب وغیرہ مصروفیت ناممکن ہے ، تجربہ اس بات پر شاہد ہے ، اس لیے وہ گھر سے باہر نکلنے کی ترغیت دیتے ہیں، اور یہ بلاشبہ جائز ہے اور ہمیں بھی نکلنا چاہیے۔