السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرات علمائے کرام سے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب درکار ہے آپﷺ کے بعد دین میں کسی نئی چیز کا ایجاد بدعت کہلاتاہے؟ کچھ لوگ سوالات کرتے ہیں کہ پھر آج کل تبلیغ میں سہ روزہ، عشرہ، چالیس اور اجتماع جیسے لازمی کردیا گیاہے ،کچھ لوگ اس معاملے میں زبردستی بھی کرنے لگے ہیں،آیا اس عمل کو بدعت سمجھا جائے گا یا نہیں ؟نیز تبلیغ بلاشبہ ہر مسلمان پر فرض ہے، یہ ہم پر لازم ہے میں صرف یہ مخصوص کرنا اس ایام کی صورت میں کیا بدعت ہوگا؟
سوال میں مذکور طریقہ، امرِ تبلیغ پر عمل کرنے کیلیے محض انتظامی طور پر اختیار کیا گیاہے، اس کو ثابت اور بذات خود سمجھ کر نہیں کیا جاتا، اس لیے اسمیں حرج نہیں، مگر فی نفسہ ان ایام مخصوصہ کے لگانے کو ہی دین سمجھ لینا جہالت پر مبنی حرکت ہے، جس سے اہل تبلیغ کو تعلق نہیں۔
في الفتاوی الشامیة: وحينئذ فيساوي تعريف الشمني لها بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما اهـ (۱/۵۶۰)۔
وفیہاٲیضا: وإلا فقد تكون واجبة، كنصب الأدلة للرد على أهل الفرق الضالة، وتعلم النحو المفهم للكتاب والسنة ومندوبة كإحداث نحو رباط ومدرسة وكل إحسان لم يكن في الصدر الأول، ومكروهة كزخرفة المساجد. ومباحة كالتوسع بلذيذ المآكل والمشارب والثياب اھـ (۱/۵۶۰) واللہ أعلم بالصواب!
کیا درست قرآن دینا تبلیغ میں داخل ہےیا تبلیغ کے لئے اس راستے میں نکل کر دعوت دینا لازم ہے؟
یونیکوڈ دعوت و تبلیغ 0کیا تبلیغ والوں کا سہ روزہ، چلہ، چارماہ اور سات ماہ وغیرہ اوقات مقرر کرنا بدعت ہے؟
یونیکوڈ دعوت و تبلیغ 0آیت ’’اِنْفِرُوْا خِفَافاً وَّ ثِقَالاً ‘‘کو مروّ جہ تبلیغ میں نکلنے کی ترغیب کے لۓ پڑھنا
یونیکوڈ دعوت و تبلیغ 1تبلیغی جماعت والے اگر جہاد کی بات نہ کرے تو کیا اس جماعت میں تبلیغ کا کام کیا جاسکتا ہے؟
یونیکوڈ دعوت و تبلیغ 0