کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام ان مسائل کے بارے میں کہ قرآن پاک کی آیت ’’اِنْفِرُوْا خِفَافاً وَّ ثِقَالاً الخ ‘‘ کو مروّجہ تبلیغ میں نکالنے کی ترغیب میں بیان کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں۔
مروّجہ تبلیغ بھی چونکہ احیاءِ دین کا ایک اہم ذریعہ اور شعبہ ہے، اس لیے اس میں نکلنے کے لیے ترغیب کے طور پر مذکور آیت یا دیگر وہ آیات و احادیث بیان کرنا جو جہاد فی سبیل اللہ کے موضوع پر صراحۃً یا اشارۃً دلالت کرتی ہیں، بلاشبہ جائز اور درست ہے، اور یہ اصولِ تفسیر کے بھی خلاف نہیں۔ واللہ أعلم بالصواب!